بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1443ھ 16 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ کا حکم


سوال

میں سرکاری ملازم ہوں اور گورنمنٹ ہر ماہ میری تنخواہ سے جی پی فنڈ کے نام پر پیسے کاٹتی ہے اور ریٹائر منٹ پر جتنا فنڈ جمع ہوا ہوتا ہے، کچھ اضافی پیسوں کے ساتھ دے دی جاتی ہے تو کیا یہ اضافی پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے علاوہ کچھ ملازمین گورنمنٹ کے دیے ہوۓ حساب سے کچھ زیادہ پیسے کٹواتے ہیں؛ تاکہ ریٹائرمنٹ پر زیادہ پیسے مل جائیں !

جواب

جی پی فنڈ کی دو صورتیں ہیں: اختیاری اور  جبری۔

اگر جی پی فنڈ کا جمع کرنا ملازم کے اختیار میں ہو اور ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کروائے اور اس رقم پر ادارے کی طرف سے اضافہ مل جائے  کہ اس کو ڈبل کرکے واپس کریں یا چالیس فیصد زیادہ کرکے دیں یا انشورنس میں ڈال کر اس پر اضافہ دیں گے تو اس اختیاری جی پی فنڈ کا حکم یہ ہے کہ اصل رقم حلال ہے، اصل رقم کے علاوہ ادارہ یا کمپنی اپنی طرف سے جو رقم شامل کررہی ہے اس کا لینا بھی جائز ہے۔ لیکن اصل اور کمپنی  کی طرف سے  ابتدا میں شامل کردہ  رقم کو کمپنی یا ادارہ، انشورنس کمپنی یا بینک میں جمع کرے تو اس انشورنس یا سود والی اضافی رقم کا حکم یہ ہے کہ  چوں کہ یہ جی پی فنڈ اختیاری ہے، اس صورت میں کمپنی یا ادارہ ملازم کے لیے وکیل بن جائے گا،  اور وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ ہوتاہے، لہٰذا بیمہ کمپنی یا بینک میں رقم منتقل ہونے کے بعد ملازم اس رقم کا مالک بن جائے گا، اب اس رقم پر جو اضافہ کے ملے گا وہ شرعاً سود کے حکم میں ہوگا، اس کا استعمال ملازم کے لیے ناجائز  ہے۔

اگر جی  پی  فنڈ کا جمع کرنا آدمی کے اختیار میں نہ ہو اور کمپنی یا ادارہ جی پی فنڈ کی مد میں پیسے کاٹے اور اصل پیسے کے بجائے دوگنے پیسے دے یا اس سے زیادہ دے تو  کل رقم (اصل مع اضافہ) ملازم کے لیے حلال ہے ، اس میں ملازم کا عمل دخل نہیں ہے،اور یہ ملازم کے لیے عطیہ کی طرح ہے، اس کا لینا ملازم کے لیے جائز ہے۔

لہذا جہاں جبری کٹوتی ہو وہاں اضافی رقم کا لینا درست ہے، اور جہاں ملازمین اپنی مرضی سے زیادہ رقم کٹواتے ہیں؛ تاکہ اضافی رقم زیادہ ملے یہ عمل اور اپنی مرضی سے کٹوتی کی صورت میں اصل رقم پر ملنے والامنافع لینا درست نہیں ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها".

(البحر الرائق ج: 7، ص: 300، ط: دارالكتاب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مطلب: كل قرض جر نفعًا حرام(قوله:كل قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا، كما علم مما نقله عن البحر".

(رد المحتار ج: 5، ص: 166، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فضل خال عن عوض بمعيار شرعي وهو الكيل والوزن فليس الذرع والعد بربًا مشروط ذلك الفضل لأحد المتعاقدين في المعاوضة".

(الدر المختار ج:5، ص: 128/ 129، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں