بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فون پر بات کرتے وقت اذان شروع ہونے پر بات چیت کرنے کا حکم


سوال

اگر کوئی فون پر کسی سے بات کر رہا ہو اور اس دوران  اذان شروع ہو جائے، تو کیا بات چیت کو اس وقت روکنا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فون پر بات کرتے وقت اگر اذان شروع ہوجائے تو بہتر یہ ہے کہ بات کو روک کر اذان کا جواب دیا جائے ،لیکن اگر  اس دوران بات کو جاری رکھا گیا(عملاً سعی الی المسجد کے ساتھ ) تویہ بھی جائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والذي ينبغي تحريره في هذا المحل أن الإجابة باللسان مستحبة وأن الإجابة بالقدم واجبة إن لزم من تركها تفويت الجماعة."

(كتاب الصلاة،باب الأذان،399/1،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا ينبغي أن يتكلم السامع في خلال الأذان والإقامة ولا يشتغل بقراءة القرآن ولا بشيء من الأعمال سوى الإجابة، ولو كان في القراءة ينبغي أن يقطع ويشتغل بالاستماع والإجابة. كذا في البدائع."

(كتاب الصلاة،الباب الثاني في الأذان،الفصل الثاني،57/1،ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407102203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں