بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

فری فائر گیم کا حکم


سوال

پب جی گیم کے متعلق جامعہ بنوری ٹاون کا فتوٰی میں نے پڑھا، اور یہ فتوٰی بالکل صحیح ہے، اِس سے لوگوں کی اصلاح ہُوئی ہے ،جو یہ گیم  کھیلتے تھے وہ چھوڑ چُکے ہیں، لیکِن میں  عاجزی اور انکساری کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں  کہ  برِّصغیر ہندوستان پاکستان اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھیلے جانے والا گیم"فری فائر "ہے، جو  کہ بالکل پب جی گیم  کی طرز پر بنایا گیا ہے ،اس میں صریح بتوں کی پوجا تو نہیں ہے، لیکِن اُسی سے مِلتا جلتا ہی ایک عمل ہے ۔فری فائر گیم میں دیوار پر تصویر بنی ہوتی ہے اور اگر  پلیئر کے پاس وہ تصویر والا ایموٹ ہے، تو تصویر کے سامنے جاکر بالکل ایک جیسا emot دکھانے پر کُچھ سامان وغیرہ دیا جاتا ہے،  گیم میں جیسے کہ گن بیگ اور بھی دیگر سامان جو گیم میں موجود ہے ۔ میں آپ سے گزارش کروں گا، آپ اس گیم  پر خوب  اچھے سے پوری تحقیق کریں اور  فتویٰ جاری کریں اگر یہ گیم شرکیہ گیم ہے تو لوگوں کو بچایا جائے!

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی کسی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1۔۔ وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو۔

2۔۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو، مثلًا: جسمانی ورزش وغیرہ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔۔ کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو۔

4۔۔ کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ جس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

حاصل یہ  کہ اگر آن لائن گیم میں مذکورہ خرابیاں پائی جائیں، یعنی اس میں مشغول ہو کر شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلاً جان دار کی تصاویر، موسیقی اور جوا وغیرہ ہوں یا اسے محض لہو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو تو اس طرح کی گیم کا کھیلنا جائز نہیں ہوگا۔

معلومات کے مطابق سوال میں مذکورہ گیم میں کارٹون کی شکل میں جان دار تصاویر بھی موجود ہیں، اور اس میں دینی یا دنیوی کوئی فائدہ بھی نہیں ہے، لہذا یہ گیم کھیلنا جائز نہیں ہو گا،خواه اس كے اندر كوئي مشركانه فعل نه بھی پایا جائے ،لہذا لوگوں کو اس گیم سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کی جائے ۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"و لهو الحديث على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها."

(ج: 11، صفحه: 66)، سورۃ لقمان، ط: دار الکتب العلمیة)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں