بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فوت شدہ فرض اور وتر کی نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہونے کی صورت میں اس کی قضاء کا طریقہ


سوال

اگر کسی کی چار پانچ سال کی نمازیں قضا ہوگئی ہوں اور یاد نہ ہو کہ کتنی نمازیں قضا ہیں تعداد اور وقت یاد نہ ہو تو اسکی قضا کیسے کریں گے اور چونکہ اس میں وتر بھی ہے چار پانچ سال سے عشاء کے ساتھ وتر بھی نہیں پڑھی تو وتر کی قضا کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  قضاشدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں تو ایسی صورت میں اچھی طرح سوچ سمجھ کر غالب گمان اور خیال  سے ایک تعداد متعین کرلے، اور پھر جتنے سالوں یامہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں اس کے مطابق حساب کر انہیں ادا کریں،اور جو حساب لگایا ہے اس سے کم ادا نہ کرے بلکہ زیادہ ادا کرنے کی کوشش کرے قضاء کرتے وقت یہ نیت کریں کہ سب سے پہلے جوفجریاظہر وغیرہ رہ گئی وہ قضاکرتاہوں،اسی طرح پھر دوسرے وقت کی نیت کریں ۔

ایک آسان صورت فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کی یہ بھی ہے کہ ہر وقتی فرض نمازکے ساتھ اس وقت کی قضا نمازوں میں سے ایک پڑھ لیاکریں، (مثلاً: فجر کی وقتی فرض نماز ادا کرنے کے ساتھ قضا نمازوں میں سے فجر کی نماز بھی پڑھ لیں، ظہر کی وقتی نماز کے ساتھ ظہر کی ایک قضا نماز)۔ جتنے برس یاجتنے مہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں اتنے سال یامہینوں تک اداکرتے رہیں۔نیز وتر کی نماز بھی اسی طرح ادا کریں۔

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"خاتمة من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:447، ط:دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضاً:

"إذا كثرت الفوائت يحتاج لتعيين كل صلاة" يقضيها لتزاحم الفروض والأوقات كقوله أصلي ظهر يوم الإثنين ثامن عشر جمادى الثانية سنة أربع وخمسين وألف وهذا فيه كلفة "فإن أراد تسهيل الأمر عليه نوى أول ظهر عليه" أدرك وقته ولم يصله فإذا نواه كذلك فيما يصليه يصير أولا فيصح بمثل ذلك وهكذا "أو" إن شاء نوى "آخره" فيقول أصلي آخر ظهر أدركته ولم أصله بعد فإذا فعل كذلك فيما يليه يصير آخرا بالنظر لما قبله  ."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:446، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجب القضاء بتركه ناسيا أو عامدا وإن طالت المدة ولا يجوز بدون نية الوتر. كذا في الكفاية ومتى قضي الوتر قضي بالقنوت. "

(كتاب الصلاة، الباب الثامن في صلاة الوتر، ج:1، ص:111، ط:رشيدية)

وفیہ ایضاً:

"والاحتياط واجب في العبادات." 

(کتاب الصلاة، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، ج:1، ص:124، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102586

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں