بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

فاریکس ٹریڈنگ کے حرام ہونے کی وجوہات


سوال

فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام ؟ میں الجھن میں ہوں ؛کیونکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حلا ل ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے ، لیکنکیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ حلال ہے یا نہیں اور کیوں؟

جواب

فاریکس ٹریڈنگ(forex trading)کے نام سے جو بین الاقوامی کارو بار نیٹ وغیرہ کے ذریعہ رائج ہے، چاہے اس میں  کرنسی، سونا ، چاندی کا تبادلہ  ہو یا  دیگر اجناس مثلاًکپاس، گندم وغیرہ کا سودا ہوتا ہو، اس کاروبار میں شرکت کرنا اور نفع حاصل کرنا درج ذیل وجوہات کی بنا پر حرام ہے :

(1)تقابض کا نہ ہونا: شریعت مطہرہ میں ایسا عقد جس میں خریدار اور فروخت کرنے والے ہر ایک کی طرف سے کرنسی، سونا، چاندی(ہم جنس) چیزوں کا معاملہ اور تبادلہ ہو تو اس عقد(بیع)کو بیع صرف کہا جاتا ہے ، بیع صرف کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ معاملہ کنندگان میں سے ہر ایک ہاتھ در ہاتھ ایک ہی مجلس میں سودے کے وقت( عوضین کی) ادائیگی اور تبادلہ کریں،   فاریکس ٹریڈنگ میں اس کا خیال نہیں رکھا جا تا ، پہلے تو کرنسیوں کی خرید وفروخت نقد نہیں ہوتی بلکہ معاملہ کنندگان کرنسیوں کی قیمت کے گھٹنے بڑھنے کی وجہ سے جو نفع نقصان ہوتا ہے اس نفع نقصان کو دیکھ کر عقد کے آخر میں حساب برابر کرتے ہیں،   اسی طرح سونا چاندی میں جب دونوں طرف سے تبادلہ ہو تو ہاتھ در ہاتھ ہونا چاہیےجب کہ فاریکس ٹریڈنگ میں اسپاٹ ٹریڈ(spot trading)کے نام سے سودا اگرچہ نقد ہوتا ہے مگر عقد کے دونوں فریق یا ان میں سے ایک فریق  اپنے حق پر عقد کی مجلس میں قبضہ نہیں کرتا ، جب ان تینوں اشیاء(کرنسی، سونا ،چاندی)کے اندر جب طرفین کی جانب  سےمجلس عقد میں ہی عوضین کا تبادلہ ہاتھ در ہاتھ ہونا ضروری ہوا تو اسی بنا پران اشیاء میں  فیوچر ٹریڈ(future trading)کے نام سے مستقبل کی بیع بھی ناجائز ہوئی ؛کیوں کہ مذکورہ تین چیزوں میں بیع صرف ہوتی ہے بیع صرف میں فوراً جانبین سے ادائیگی لازم ہوتی ہے،  جب کہ فیوچر سیل مستقبل کی بیع ہے۔

(2)بیع قبل القبض: شریعت مطہرہ میں کسی ایسی چیز کے سودے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے جو کسی کی ملکیت اور قبضہ میں نہ ہو،  جب کہ لوگفاریکس ٹریڈنگ میںخریداری محض کرنسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ  کے ذریعہ نفع حاصل کرنے کےلیے کرتے ہیں، ان کا مقصد کرنسی حاصل کرنا نہیں ہوتا؛ لہذا اکثر خریدارکرنسی کا قبضہ حاصل نہیں کرتے اور آگے بیچ دیتے ہیں۔اسی طرح دیگر اجناس مثلاً کپاس ، گندم کے سودے میں اصل چیز  پر ابھی تک قبضہ نہیں کئے ہوتے ہیں کہ اس کو پھر آگے بیچتے ہیں،  کسی چیز کے قبضہ میں آنے سے پہلے آگے بیچنا شرعاً نا جائز ہے۔

(3)شروط فاسدہ:اصول یہ ہے کہ بیع شرط فاسدسے فاسد ہوجا تی ہے اور فاریکس ٹریڈنگ میں شروط فاسدہ بھی لگائی جاتی ہیں،  مثلاًswaps(بیع بشرط الاقالہ) کے نام سے یہ شرط لگانا کہ مقررہ مدت کے بعد بیع کو ختم کیا جائے گا ، حالانکہ بیع تام ہوجانے کے بعد لازم ہوجاتی ہے اور جانبین کا اختیار ختم ہوجاتا ہے،  اسی طرح(option)کےنام سے خریدار کو یہ حق دینا کہ وہ اپنی بیع کو فریق مخالف کی رضا مندی کے بغیر بھی ختم(اقالہ) کرسکتا ہے،  یہ بھی شرط فاسد ہے ؛ کیوں کہ ایک دفعہ عقد مکمل ہونے کے بعد اس طے شدہ عقد کو ختم کرنے کے لیے جانبین کی رضامندی شرط ہوتی ہے،  اسی طرح فاریکس ٹریڈنگ میں ایک شرط فاسد یہ بھی ہے کہ اس میں دلال کو سودا ہوجانے کے بعدنقصان کی صورت میں پورے سودے کوختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے ، جب کہ شرعاً دلال کو اپنے عمل کی اجرت لینے کے بعد سودے میں کوئی حق نہیں ہوتا ، نفع نقصان کا معاملہ خریدار اور فروخت کرنےوالے کے درمیان ہوتا ہے،  لہذا معاملہ کے ختم کرنے کا اختیار بھی شریعت میں  دونوں(عاقدین) کی رضامندی پر رکھا گیا ہے ۔

(4)سود:فاریکس کمپنی کا  رکن بن کر جب کوئی چیز  خریدی جاتی ہے اگر اس چیز کو اسی دن خریدار آگے فروخت کردے، توفاریکس کمپنی اس سےصرف اپنا کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر فروخت  کرنے میں کچھ دن لگ جائے تو فاریکس کمپنی اپنے کمیشن کے علاوہ یومیہ کے حساب سے اس خریدار (جو در اصل کمپنی کا ایک رکن ہوتا ہےاس)سےسودوصول کرتی ہے،  اور شریعت میں سود کی حرمت کا معاملہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

"قال(عليه الصلاة و السلام):"الذهب بالذهب مثلا بمثل ‌يدا ‌بيد، والفضل ربا. والفضة بالفضة مثلا بمثل ‌يدا ‌بيد، والفضل ربا. والحنطة بالحنطة مثلا بمثل ‌يدا ‌بيد، والفضل ربا. والملح بالملح مثلا بمثل ‌يدا ‌بيد، والفضل ربا. والشعير بالشعير مثلا بمثل ‌يدا ‌بيد، والفضل ربا. والتمر بالتمر مثلا بمثل ‌يدا ‌بيد، والفضل ربا.» وهذا حديث مشهور تلقته العلماء رحمهم الله تعالى بالقبول والعمل به... ودار هذا الحديث على أربعة من الصحابة - رضوان الله عليهم أجمعين -: عمر بن الخطاب وعبادة بن الصامت وأبي سعيد الخدري ومعاوية بن أبي سفيان، - رضي الله عنهم - مع اختلاف ألفاظهم."

(كتاب البيوع، ج:١٢، ص:١٢٧، ط:دار الكتب العمية بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"شرائط الصحة...القبض في ‌الصرف قبل الافتراق."

(كتاب البيوع، ج:٤، ص:٥٠٥، ط:سعيد)

بدائع الصنائع للکاسانی میں ہے:

"لايصح اتفاقا...بيع منقول قبل قبضه و لو من بائعه."

(باب المرابحة و التولية، فصل في التصرف في المبيع و الثمن قبل القبض و الزيادة، ج:٥، ص:١٤٧، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"ومنها: الرضا لقول الله تعالى: {إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] عقيب قوله - عز اسمه - {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} [النساء: 29]"

(كتاب البيوع، شرائط صحة البيع، ج:٤، ص:٣٨٨، دار إحياء التراث العربي بيروت)

وفیہ ایضاً:

"ومنها: شرط الأجل في المبيع العين والثمن العين وهو أن يضرب لتسليمها أجل؛ لأن القياس يأبى جواز التأجيل أصلا؛ لأنه تغيير مقتضى العقد؛ لأنه عقد معاوضة تمليك بتمليك وتسليم بتسليم والتأجيل ينفي وجوب التسليم للحال فكان مغيرا مقتضى العقد...ويجوز في المبيع الدين وهو السلم بل لا يجوز بدونه عندنا على ما نذكره في موضعه وكذا يجوز في الثمن الدين وهو بيع الدين بالدين؛ لأن التأجيل يلائم الديون ولا يلائم الأعيان؛ لمساس حاجة الناس إليه في الديون لا في الأعيان على ما بينا."

(كتاب البيوع، شرائط صحة البيع، ج:٤، ص:٣٨٤، دار إحياءالتراث العربي بيروت)

وفیہ ایضاً:

"ومنها: الخلو عن الربا، وإن شئت قلت: ومنها المماثلة بين البدلين في أموال الربا حتى لو انتفت فالبيع فاسد؛ لأنه بيع ربا، والبيع الذي فيه ربا فاسد؛ لأن الربا حرام بنص الكتاب الكريم قال الله - عز وجل: - {وحرم الربا} [البقرة: 275]."

(كتاب البيوع، شرائط صحة البيع، ج:٣، ص:٤٠٠، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408101574

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں