بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

فورکس کاروبار کی شرعی حکم


سوال

کیا انٹرنٹ پر "فورکس" کا کاروبار یعنی کرنسی کی خرید و فروخت کا کاروبار جائز ہے ؟ فورکس ایک قسم کا کاروبار ہے جس میں بندہ کرنسی خریدتا ہے اور قیمت بڑھ جانے پر اسے بیچتا ہے

جواب

مختلف ممالک کی کرنسی کی خرید وفروخت بشرطیکہ ادھار نہ ہو تو جائز ہےمگر لوگ کرنسی خریدتے ہیں اور قیمت بڑھنے پر آگے فروخت کرتے ہیں اور قبضہ ملنے کا بھی انتظار نہیں کرتے ہیں ایسی خریدوفروخت ناجائز ہے۔لوگوں کو عمومی تصور یہ ہے کہ وہ رسک کی منتقلی کو قبضہ کا قائم مقام سمجھتے ہیں حالانکہ رسک یعنی نفع ونقصان کی ذمہ داری قبضہ کے بدلے کافی نہیں ہوتی ۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200690

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے