بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا طریقہ


سوال

قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہیں ہےکیونکہ ،کبھی دو،کبھی تین اور کبھی ایک بھی نہیں پڑھتا تھا ،لیکن الحمدللہ ابھی میں پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتا ہوں۔آپ سے بس اتنی التجا ہے کہ قضا نمازوں کا ایک بوجھ ہے سینے پر اس کو کیسے ہٹاؤں سینے سے۔میری عمر ابھی 33 سال ہے پلیز کوئی طریقہ بتادے۔

جواب

سائل کو چونکہ فوت شدہ نمازوں کی تعداد کا یقینی علم نہیں ہے تو سائل کو چاہیے کہ وہ فوت شدہ نمازوں کا ایک غالب اندازہ لگائے یعنی کتنی تعداد میں فجر، طہر، عصر، مغرب اور عشاء سائل کے ذمہ باقی ہیں اس کا ایک غالب اندازہ لگائے اور پھر ان نمازوں کے فرائض  (اور عشاء کی نماز میں فرض کے ساتھ وتر بھی) کی قضاء کرلے۔ سائل کو چونکہ یہ یاد نہیں ہے کہ کون سے دن کون سی نماز قضاء ہوئی تھی تو سائل   یوں نیت کرے  کہ سب سے پہلی یا سب سے آخری فجر(ظہر یا عصر یا مغرب یا عشاء) جو میرے ذمہ ہے وہ میں قضا کرتا ہوں۔  

فتاوی شامی میں ہے:

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت".

(کتاب الصلاۃ، ج نمبر ۲، ص نمبر ۷۶، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101357

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں