بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فلٹر شدہ پانی فروخت کرنے کا حکم


سوال

کیا فلٹر شدہ پانی کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں   اگر کوئی شخص پانی کو   برتن، مشکیزہ،  ٹینک، کین وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کی ملکیت قرار پاتا ہے، اب اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے، اس صورت میں ازروئے شرع اس کی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے، لہٰذا  پانی فلٹر کر کے فروخت کرنا شرعًا جائز ہے، اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے، البتہ  اس سلسلے میں اگر قانونی طور حکومتی اجازت نامہ  ضروری ہو تو اس کی اور  اورحفظانِ صحت کے اصولوں کی رعایت رکھی جائے۔

فتاوی شامی(حاشیۃ ابن عابدین) میں ہے:

"إن صاحب البئرلایملك الماء ... و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته".

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملك الماء، ج:5،  ص: 67، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406100797

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں