بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

فلموں میں کفریہ کلمات سننے کا حکم


سوال

کیا حکم ہے  ٹی وی چینلز پر کفریہ کلمات کے سننے کا، اسی طرح ڈارموں ،فلموں وغیرہ میں بھی، کیا اس میں ایمان ختم ہو نے کا اندیشہ تو نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  فلم ،ڈرامہ یا ٹی وی چینلز دیکھنایا سننا  جان دار اشیاء ،غیر  محرم کی تصاویر اور موسیقی وغیر ہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے ، نیز  کفریہ کلمات  پر مشتمل ڈرامہ دیکھنےسے کفر کی طرف میلان کا بھی خطرہ ہے  ، لہذا ہر مسلمان پر اس سے مکمل اجتناب کرنا لازم ہے، تاہم محض کلمۂ کفر سننے سے بندہ کافر نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی شخص اس کے مطابق ہی اپنا عقیدہ قائم کر لے تو اس سے انسان کافر ہوجاتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع

(قوله فسق) أي خروج عن الطاعة ولا يخفى أن في الجلوس عليها استماعا لها والاستماع معصية فهما معصيتان".

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:349،سعید)

تفسیر مظہری میں ہے :

"فلاتقعدوا معهم اى مع الذين يكفرون ويستهزءون حتى يخوضوا في حديث غيره اى غير الاستهزاء فحينئذ لا بأس بمجالستهم لضرورة دعت ومن غير ضرورة يكره مجالستهم مطلقا وقال الحسن لا يجوز مجالستهم وان خاضوا فى حديث غيره وفى هذه الاية اشارة الى ما نزل سابقا بمكة فى سورة الانعام وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره- قال الضحاك عن ابن عباس دخل فى هذه الاية كل محدث فى الدين وكل متبدع الى يوم القيامة إنكم ايها المؤمنون إذا يعنى إذا قعدتم عند من يكفرون ويستهزءون بالآيات ورضيتم به كفار مثلهم غير ان الرضاء بالكفر من غير تفوه نفاق أفرد كلمة مثل لانه كالمصدر او للاستغناء بالاضافة الى الجمع إن الله جامع المنافقين القاعدين عند الكفار الراضين بالكفر والاستهزاء والكافرين المستهزئين الخائضين فى القران في جهنم جميعا كما اجتمعوا فى الدنيا على الكفر والمجالسة."

(ج:2،ص:263،مکتبۃ الرشدیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100888

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں