بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

فلمیں دیکھنے سے نکاح ٹوٹنے کا حکم


سوال

کیا فحش فلمیں دیکھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ 

جواب

جان دار کی تصاویر پر مشتمل کوئی بھی ویڈیو وغیرہ دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور ایسی فلمیں جن میں فحش مواد ہو یا وہ فلم ہی فحش ہو اس کا دیکھنا تو اور زیادہ سخت گناہ ہے،  نیز اگر اس میں  بدکاری وغیرہ  کے مناظر ہوں تو یہ انتہائی قبیح ترین عمل ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس کو دیکھنا بھی حرام ہے، یہ معاشرہ کو بے حیائی ، جنسی بے راہ روی ، اور  جانوروں جیسا بنانے کی شیطانی سازش ہے،  لہذا اس کی جتنی قباحت بیان کی جائے کم ہے، ایسے مناظر دیکھنا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اور آئندہ اس طرح کی چیزوں کے دیکھنے سے بلکہ سوچنے سے بھی اجتناب کرنا لازم ہے۔

{وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا} [النساء:27]

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کو تو تمہارے حال پر توجہ فرمانا منظور ہے، اور جو لوگ کہ شہوت پرست ہیں وہ یوں چاہتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ۔ ( بیان القرآن)

حضرت تھانوی رحمہ اللہ اس آیت تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’[فائدہ:1] شہوت پرست لوگوں سے بقول ابن زید مراد فساق ہیں، اور بقول ابن عباس مراد زانی ہیں، یہاں شہوت پرستی کی مذمت میں شہوتِ مباحہ سے منقطع ہونا داخل نہیں ہے۔

[فائدہ: 2]  بڑی بھاری کجی کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ بے باکانہ حرام کا مرتکب ہونا۔ دوسرے یہ کہ حرام کو حلال سمجھنا۔ اور اس کے مقابلے میں ہلکی کجی یہ ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھے، اور اتفاقاً اس کا صدور ہوجائے، اس آیت میں اس ’’میل غیر عظیم‘‘  کی اجازت نہیں ہے، بلکہ بیان کرنا ہے ان بدخواہوں کے حال کا وہ میلِ عظیم کی سعی میں ہیں‘‘۔

البتہ یہ فلمیں دیکھنے سے نکاح نہیں ٹوٹےگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200146

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں