بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فدیہ کی رقم مستحق زکوة بیٹے کو دینا


سوال

كیا مرحوم والد کی نماز اور روزہ کا فدیہ مستحق زکوة بیٹے کو دیا جا سکتا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے، زکوٰۃ کی طرح  نماز اور روزے کا فدیہ بھی ماں باپ  کے لیے اپنی اولاد یا ان کی اولاد کو دینا جائز نہیں ہے؛  لہذا صورتِ  مسئولہ میں مستحق بیٹے  کو فدیہ دینے سے فدیہ ادا نہیں  ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومصرف ھذہ الصدقة ما ھو مصرف الزکاۃ."

(الباب الثامن فی صدقة الفطر، ج: 1 ،ص: 194، ط: مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144503100672

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں