بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اُمّ الفضل رضی اللہ عنہا کی فدیہ سے جان چھڑانے سے متعلق روایت


سوال

 آپ سے التماس ہےکہ بخاری شریف کی اس   حدیث کا حوالہ تحریرفرما دیجیے،  جس میں اُمّ الفضل نےفدیہ سے جان چھڑانے کے لیے کہا تھا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔

جواب

بخاری شریف میں ایس کوئی روایت نہیں  ملتی کہ جس میں’’ اُمّ الفضل رضی اللہ عنہا  نے فدیہ سے جان چھڑانے کے لیےکہا ہو کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے ‘‘۔ البتہ گر  فدیہ سے   آپ کی مراد یہ ہے کہ ’’ بدر کے قیدیوں میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےحضرت عباس رضی اللہ عنہ سے جو فدیہ طلب کیا گیا ،اور انہوں نے  کہا کہ: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے ، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ مال کہاں گیا؟  جو اُمّ فضل کے پاس  آپ نے مکہ میں چھپایا تھا؟ ‘‘تو یہ روایت بھی  صحیح بخاری میں نہیں ہے ، بلکہ  مسند احمد میں منقول ہے ۔(دیکھیے :  مسند أحمد  (5/ 334 و335) برقم (3310 )، ط/ مؤسسة الرسالة)

اور اگر  فدیہ سے آپ کی مراد فدیہ صوم  سےجان چھڑانے کی روایت ہے کہ جس میں كسي شخص نے روزے میں جماع کے  بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہے ، تو رسالت ِمآب صلی اللہ علیہ ویم نے فدیہ دینے کا حکم فرمایا،  جس پر انہوں نے فرمایا کہ مجھ ميں استطاعت  نہیں کہ غلام یا باندی آزاد کرسکوں ، یا دو ماہ کے پے درپے روزے رکھوں ، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کہلاؤں،  اتنے میں  نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا بھرا  ہوا  ٹوکرا لایا گیا،آپ نے فرمایا: ’’سائل کہاں ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لو اور اسے خیرات کردو،  اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ !خیرات تو اس پر کروں جومجھ سے زیادہ محتاج ہو، اللہ کی قسم!مدینہ کے دو طرفہ پتھریلے کناروں میں کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اچھااسے اپنےہی  گھر والوں  کو کھلا دو۔(صحيح البخاري، باب إذا جامع في رمضان ولم يكن له شيء فتصدق عليه فليكفر، (3/ 32) برقم (1936)، ط/ دار طوق النجاة)

  یہ  روایت تو  بخاری شریف میں موجود ہے ، لیکن وہ اُمّ الفضل رضی اللہ عنہا سے متعلق نہیں هے،بلکہ ایک  اور صحابی  سے متعلق روایت  ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144205200514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں