بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

فی سبیل اللہ میں علماء اور طلباء داخل ہیں کہ نہیں؟


سوال

ہمارے علاقے میں بعض علمائے کرام کہتے ہیں کہ زکات کی مصارف میں  جو فی سبیل اللہ کا ذکر ہے، اس میں   علماء اور طلباء داخل ہیں، اور یہ جتنے بھی سرمایہ دار ہوں  ان کے لیے زکات وصول کر نا جائز ہے،تو کیا ان کا یہ کہنا درست ہے؟ اور کیا یہ علماء اور طلباء فی سبیل اللہ جو کہ  زکات کا مصرف ہیں،  اس میں داخل ہیں ،اور ان کے لیے ہر صورت میں زکات  وصول کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ   مال دار، صاحبِ نصاب طلباء اور علماءزکوۃ کے مصرف میں  شامل نہیں ہیں ،بل کہ مستحق زکوۃ ہونے کے لیے مالی اعتبار سے مستحق زکاۃ ہونا ضروری ہے، یعنی جس کی ملکیت نصاب چاندی کے برابر سونا، چاندی یا نقدی،یا حوائج اصلیہ سے زائد اتنی مقدار کوئی بھی مال موجود نہ ہو ،قران کریم میں جو فی سبیل اللہ کا ذکر مصارف زکاۃمیں آیاہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو دین کا کام کرتا ہو اور مال اعتبار سے نصاب کا مالک ہونے کے باوجودوہ مستحق زکاۃ ہو، مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام اور  فقہائے کرام نےزکاۃ کے مصرف کے لیے فی سبیل اللہ کے ساتھ  فقر ومحتاجی کی قید لگائی ہے،اور اسی کو ترجیح دی ہے  ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں     طلباء اور علماء جو دینی خدمات میں مصروف ہیں، چاہے وہ درس و تدریس میں ہوں؛ یا تصنیف و تالیف میں یا دعوت و تبلیغ میں؛ وہ اگروہ مالی اعتبار سے مستحق زکاۃ ہوں، تو اُن کو تعاون کے طور پر زکاة دی جاسکتی ہے،اور اگر وہ مال دار ،صاحب  نصاب ہوں،تو ان کو زکاۃ دینا درست نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ."(60)

        ترجمہ: صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا  اور جو کارکن ان صدقات پر متعین ہیں  اور جن کی دلجوئی کرنا (منظور) ہے   اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں   اور قرضداروں کے قرضہ میں اور جہاد میں اور مسافروں میں یہ حکم الله کی طرف سے مقرر ہے ، اور الله تعالیٰ بڑے علم والے بڑے حکمت والے ہیں ۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:

"الصنف السابع: قوله تعالى: ‌وفي ‌سبيل ‌الله قال المفسرون: يعني الغزاة. قال الشافعي رحمه الله:يجوز له أن يأخذ من مال الزكاة وإن كان غنيا وهو مذهب مالك وإسحاق وأبي عبيد. وقال أبو حنيفة وصاحباه رحمهم الله: لا يعطى الغازيإلا إذا كان محتاجا."

(‌‌سورة التوبة (9) : آية 60، ج:16، ص:87، ط:دار إحياء التراث العربي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما قوله تعالى: {وفي سبيل الله} [التوبة: 60] عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله وسبيل الخيرات‌إذا ‌كان ‌محتاجا."

(كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ج:2، ص:45، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قلت: وهو كذلك. والأوجه تقييد ‌بالفقير."

(‌‌كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:340، ط: سعید)

و فیہ ایضاً:

"(وفي سبيل الله وهو منقطع الغزاة) وقيل الحاج وقيل طلبة العلم، وفسره في البدائع بجميع القرب وثمرة الاختلاف في نحو الأوقاف..... (قوله: وقيل طلبة العلم) كذا في الظهيرية والمرغيناني واستبعده السروجي بأن الآية نزلت وليس هناك قوم يقال لهم طلبة علم قال في الشرنبلالية: واستبعاده بعيد؛ لأن طلب العلم ليس إلا استفادة الأحكام وهل يبلغ طالب رتبة من لازم صحبة النبي صلى الله عليه وسلم لتلقي الأحكام عنه كأصحاب الصفة، فالتفسير بطالب العلم وجيه خصوصا وقد قال في البدائع في ‌سبيل الله جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله ‌وسبيل الخيرات إذا كان محتاجا. اهـ. (قوله: وثمرة الاختلاف إلخ) يشير إلى أن هذا الاختلاف إنما هو تفسير المراد بالآية في الحكم، ولذا قال في النهروالخلاف لفظي للاتفاق، على أن الأصناف كلهم سوى العامل يعطون بشرط الفقر فمنقطع الحاج أي وكذا من ذكر بعده يعطى اتفاقا وعن هذا قال في السراج وغيره: فائدة الخلاف تظهر في الوصية يعني ونحوها كالأوقاف والنذور على ما مر اهـ أي تظهر فيما لو قال الموصي ونحوه في ‌سبيل الله، وفي البحر عن النهاية، فإن قلت: منقطع الغزاة أو الحج إن لم يكن في وطنه مال فهو فقير وإلا فهو ابن ‌السبيل فكيف تكون الأقسام سبعة قلت: هو فقير إلا أنه زاد عليه بالانقطاع في عبادة الله تعالى فكان مغايرا للفقير المطلق الخالي عن هذا القيد."

(‌‌كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:343، ط: سعید)

البحرا لرائق میں ہے:

"(قوله: ومنقطع الغزاة) هو المراد بقوله - تعالى - {وفي ‌سبيل الله} [التوبة: 60] ، وهو اختيار منه لقول أبي يوسف، وعند محمد منقطع الحاج، وقيل: طلبه العلم واقتصر عليه في الفتاوى الظهيرية وفسره في البدائع بجميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله - تعالى،‌وسبيل الخيرات إذا كان محتاجا اهـ."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ج:2، ص:260، ط: دار الكتاب الإسلامي)

معارف القرآن میں ہے:

"مدارس کے طلبہ اگر غریب اور محتاج ہیں تب تو ان پر زکوٰة صرف کرنے میں مضائقہ نہیں، اور اگر طلبہ کو "فی سبیل اللہ" میں داخل مانا جائے تب بھی فقر وحاجت مندی کی شرط ملحوظ رہے گی، مال دار اور صاحبِ نصاب طلبہ پر زکوٰة کا مال صرف کرنے سے زکوٰة ادا نہیں ہوگی ۔"

(معارف القرآن ،ج:4،ص:406،407، ط: ادارۃ المعارف کراچی) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں