بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بازو کٹے شخص کی اقتدا میں نماز کا حکم


سوال

ہمارے مولانا صاحب کا ایک بازو کٹا ہوا ہے، ان کی امامت کروانے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

جس شخص کا بازو کٹا ہوا ہو اگر وہ امامت کرائے تو اس کی اقتدا میں ادا کی گئی نماز ادا ہوجائے گی، تاہم صحیح سالم امام کے پیچھے نماز پڑھنا اولیٰ ہے۔

الدرالمختار و ردالمحتار (1 / 562) میں ہے:

"وكذا تكره خلف أمرد وسفيه ومفلوج وأبرص شاع برصه وشارب الخمر و آكل الربا ونمام ومراء ومتصنع ومن أم بأجرة، قهستاني.

 (قوله: ومفلوج وأبرص شاع برصه) وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغيره أولى، تاترخانية. وكذا أجذم، بيرجندي.  ومجبوب وحاقن ومن له يد واحدة، فتاوى الصوفية عن التحفة. والظاهر أن العلة النفرة ولذا قيد الأبرص بالشيوع ليكون ظاهرا ولعدم إمكان إكمال الطهارة أيضا في المفلوج والأقطع والمجبوب ولكراهة صلاة الحاقن أي ببول ونحوه."

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں