بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فتوی نمبر 144012201937 پر اشکال کا جواب


سوال

ڈاکٹر مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ کی کتاب "ڈاکٹر اسرار احمد، افکار و نظریات" کے تحت صفحہ نمبر 18 پر ارشاد فرماتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین اور امام بخاری اور ان کے علاوہ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اعراب منافق تھے، لیکن آپ کے ویب سائٹ پر فتوی نمبر : 144012201937کے ذیل میں انہیں مسلمان بھی تصور کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تمام اہل سنت کے مذاہب کے اعتبار سے سورہ حجرات آیت نمبر14 کے تناظر میں مذکورہ گروہ کو ائمہ احناف ، شوافع، حنابلہ، مالکیہ اور اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مذاہب بھی تفصیل سے بیان کریں اورڈاکٹر اسرار رحمہ اللہ کے موقف سے ان کا موازنہ بھی ارشاد فرمائیں۔

جواب

حقیقت میں اور شرعی اعتبار سے  اسلام اور ایمان ایک ہی چیز ہے،دونوں میں شرعی اصطلاح کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی تعلیمات لے کر آئے ہیں انہیں دل سے ماننا اور دل میں ان کی تصدیق کرنا ایمان ہے اسی کا اظہار اور ان پر عمل درآمد کانام اسلام ہے،جب کہ مذکورہ استفتاء اور جواب  (144012201937)صرف ظاہری اسلام اور حقیقی ایمان کے درمیان ایک اعتباری  فرق کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے،کہ اسلام کا تعلق ظاہر سے ہے اور ایمان کا تعلق باطن سے ہے، جب کہ منافق اس شخص کو کہتے ہیں جو ظاہری طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے لیکن دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا ے،اسی ( اعتباری فرق کی) وجہ سے عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو لوگ منافق تھے ان کے ساتھ ان کے ظاہری طور پر اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مسلمانوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا،عبد اللہ بن ابی سلول (منافقین کا سردار) جب مرا تو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی،مال غنیمت وغیرہ میں مسلمانوں کے ساتھ شریک رہے،یہ سب اس لیے کہ منافقین ظاہری طور پر اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے،لیکن ساتھ ساتھ دل میں ان کے نفاق ہونے کی وجہ سے وہ حقیقی مومن نہیں تھے،سورۃ الحجرات آیت 14 میں بعض دیہاتیوں کی یہی کیفیت تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق انہوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا ہے ،جب کہ ابھی تک ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا،تواس بنا پر ان بعض اعرابیوں  کو مفسرین نے منافقین لکھا ہے،اس لیے کہ انہوں نے صرف ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا،دل سے نہیں،فتوی نمبر 144012201937 میں بھی اسلام اور ایمان کےاسی  اعتباری فرق کو سمجھانے کے لیے سورۃ الحجرات آیت 14 کا حوالہ دیاگیا ہے،جو کہ قرآن مجید کی آیت سے بالکل واضح ہے ۔

فتوی  کی عبارت ملاحظہ ہو:

"اس فرق کا لحاظ رکھتے ہوئے قرآنِ مجید کی سورہ حجرات میں فرمایا گیا ہے کہ دیہاتی لوگ (آپﷺ سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ (گویا احسان جتلارہے ہیں کہ ہم تو بڑے جنگ جو تھے، لیکن بغیر لڑائی کے اسلام قبول کرلینا گویا ہمارا احسان ہے، اس لیے ہمیں آپ خیرات دیں) آپ (ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: تم (ابھی تک) ایمان نہیں لائے (یعنی دل سے تصدیق نہیں کی، ورنہ کبھی رسول اللہ ﷺ سے ایسا طرزِ تخاطب اختیار نہ کرتے)، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے ظاہری طور پر انقیاد قبول کیا ہے، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ (الحجرات:14)

سورہ حجرات کی ان آیات میں ظاہری فرماں برداری دکھانے والوں کے لیے اسلام کا لفظ اختیار کیا گیا ہے، اور ایمان کی نفی کردی گئی ہے کہ دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ 

لیکن یہ فرق ہر جگہ ملحوظ نہیں ہوتا، قرآنِ مجید میں ہی بعض انبیاءِ کرام علیہم السلام کے لیے اور اس امتِ محمدیہ کے لیے امتِ مسلمہ اور مسلمانوں کے لیے مسلمین کا لفظ استعمال ہوا ہے، ان جگہوں پر اسلام مع ایمان مراد ہے، اس لیے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے بارے میں تو کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا (حاشا للہ)، اسی طرح امتِ مسلمہ جس کی تعریف و توصیف کی جارہی ہو، اور جس کے بارے میں وقت کے نبی دعا کررہے ہوں، اور ابراہیم علیہ السلام جس امت کو مسلمین کا نام دے رہے ہوں ان کے لیے اسلام کے ساتھ حقیقی ایمان ہونا بھی ضروری ہے، لہٰذا کبھی  مؤمن کہہ کر مسلم یا مسلم کہہ کر مؤمن بھی مراد لیا جاتا ہے۔ 

بہرحال جو  مؤمن ہو وہ مسلم بھی ضرور ہوگا،   لیکن ہر مسلم (ظاہر میں اسلام کا اظہار کرنے والے ) کا مؤمن ہونا لازمی نہیں، کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی ظاہری طور پر زبان سے تو کلمہ اور نماز پڑھتا ہو ، لیکن دل میں کفریہ عقائد رکھتا ہو۔"

مذکورہ بالا فتوی کی عبارت میں ان اعرابیوں  کے لیے ظاہری طور پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا کہا گیا،حقیقی مومن نہیں کہا گیا ،جب کہ مذکورہ بالا فرق کی بنیاد پر نفاق ایمان کی ضد ہے اسلام کی نہیں،لہذامذکورہ فتوی میں کوئی بات قابل اشکال نہیں ہے۔

تفسیر الماتریدی میں ہے:

"وقوله - عز وجل -: (قالت الأعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا) هذه الآية وإن خرجت على مخرج العموم، ولكن أراد بها الخاص، وهو بعض الأعراب؛ إذ في الإجراء على العموم يؤدي إلى الكذب في خبر الله - تعالى - عن ذلك؛ إذ لا كل الأعراب قالوا ذلك، ولا كل الأعراب يجب أن يقال لهم: لم تؤمنوا، ولكن يقال لهم: قولوا: أسلمنا، فهو يرجع إلى خاص من الأعراب، فكأنه يرجع إلى أهل النفاق منهم، فإنهم أخبروا أنهم آمنوا، ولما آمنوا فلما أطلع الله - عز وجل - رسوله أنهم لم يؤمنوا، ولكنهم استسلموا وخضعوا للمؤمنين ظاهرا؛ خوفا من معرة السيف، وطمعا فيما عند المسلمين من الخير، فنهاهم أن يقولوا: آمنا، إذا لم يكن في قلوبهم ذلك، وأمرهم أن يقولوا: أسلمنا، ومعناه ما ذكرنا؛ أي: خضعنا واستسلمنا، ليرتفع عنهم السيف.

ولا يصح الاستدلال بالآية على أن الإسلام والإيمان غيران، فإنه غاير بينهما؛ حيث نهاهم أن يقولوا: آمنا وأمرهم أن يقولوا: أسلمنا، ولو كانا واحدا لم يصح هذا؛ لأنا نقول: لم يرد بهذا الإسلام هو الإسلام الذي هو الإيمان، ولكن أراد به الاستسلام والانقياد الظاهر، وهو كما يسمى: إسلاما يسمى: إيمانا - أيضا - من حيث الظاهر، فأما حقيقة الإيمان والإسلام ترجع إلى واحد؛ لأن الإيمان هو أن يصدق كل شيء في شهادته على الربوبية والوحدانية لله - تعالى - والإسلام هو أن يجعل كل شيء لله سالما، لا شركة لأحد فيه، فمتى اعتقد أن كل شيء في العالم لله - تعالى - وهو الخالق له، وكل مصنوع شاهد ودليل على صانعه فقد صدقه في شهادته على صانعه، والله الموفق."

(سورۃ الحجرات،ج9،ص338،ط؛دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100765

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں