بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا


سوال

 کیا نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ضروری ہے؟ اگر کوئی شخص بسم اللہ چھوڑ دے تو کیا نماز میں کوئی حرج ہے؟ کیا بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کا جزء ہے؟

جواب

امام اور منفرد کے لیے الحمد شریف سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے، اگر بھولے سے کبھی رہ جائے تو حرج نہیں، جان کر چھوڑنا مکروہ ہے، نماز بہر صورت ہوجائے گی۔ اور سورہ فاتحہ کے بعد دوسری سورت ملانے سے قبل بسم اللہ پڑھنا سنت نہیں، بلکہ مستحب ہے۔

جی ہاں! "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" قرآنِ مجید کا جز ہے، سورۂ نمل میں ایک آیت کا حصہ ہونا تو قطعی ہے، مستقل طور پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم قرآنِ پاک کی ایک آیت ہے، جو سورتوں کے درمیان فصل کے لیے نازل کی گئی ہے، اور ہر سورت کے شروع میں پڑھی اور لکھی جاتی ہے، سوائے سورۂ توبہ کے کہ اگر اس سے پہلے سے تلاوت جاری ہو تو سورۂ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھی جائے گی، اور اگر سورۂ توبہ سے ہی تلاوت شروع کی جائے تو اس کے شروع میں بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی جائے گی، لیکن مصحفِ عثمانی کی پیروی میں سورہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی جائے گی۔

"تبیین الحقائق" میں ہے:

وفي شرح الزاهدي والأحسن أنيسمي في  أول الفاتحة في كل ركعة في قول أصحابنا كلهم لاتختلف الرواية عنهم، ومن قال مرةً فقد غلط، إنما الاختلاف في وجوبها، فعندهما تجب في الثانية كالأولى، وفي رواية هشام والمعلى عن أبي حنيفة أنها لاتجب إلا مرةً ، ثم قال  الحسن: والصحيح هو الوجوب في كل ركعة .ا هـ .

ورأيت حاشيةً بخط العلامة ابن أمير حاج نصها: وغلط المغلط بأن الإتيان بها إما أن يكون على أنها من القرآن الواجب في الصلاة أو من غيره، فإن كان الأول فقد أجمع العلماء على أنه لايجب في الصلاة قرآن قبل الفاتحة، وأجمع علماؤنا على أنها ليست من الفاتحة، وعلى أنه لايجب في الصلاة ذكر غير التشهد والقنوت وتكبيرات العيد وتكبيرة القنوت ، وأما النص على أنها سنة ففي عامة الكتب كالمفيد والبدائع وغيرها. (2/56)

"فتاوی شامی" میں ہے:

ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأنه إن سمى بين الفاتحة والسورة المقروءة سرًّا أو جهرًا كان حسنًا عند أبي حنيفة، ورجّحه المحقّق ابن الهمام وتلميذه الحلبي ...  وقال في شرح المنية: إنه الأحوط؛ لأنّ الأحاديث الصحيحة تدلّ على مواظبته عليه الصلاة والسلام عليها جعله في الوهبانية قول الأكثرين أي بناء على قول الحلواني إن أكثر المشايخ على أنها من الفاتحة فإذا كانت منها تجب مثلها لكن لم يسلم كونه قول الأكثر.

قوله: (ضعفه في البحر) حيث قال في سجود السهو: إن هذا كله مخالف لظاهر المذهب المذكور في المتون والشروح والفتاوى من أنها سنة لا واجب، فلايجب بتركها شيء.(1/490دارالفکر)

"مراقی الفلاح " میں ہے:

( ثميسميسرًّا ) كما تقدم ( ويسمى ) كل من يقرأ في صلاته ( في كل ركعة ) سواء صلى فرضًا أو نفلًا (قبل الفاتحة) بأن يقول: "بسم الله الرحمن الرحيم" وأما في الوضوء والذبيحة فلايتقيد بخصوص البسملة بل كل ذكر له يكفي (فقط) فلاتسنّ التسمية بين الفاتحة و السورة ولا كراهة فيها وإن فعلها اتفاقًا للسورة سواء جهر أو خافت بالسورة وغلط من قال: لايسمي إلا في الركعة الأولى. (1/137)

"حاشیۃ الطحطاوی" میں ہے:

فائدة يسن لمن قرأ سورةً تامةً أن يتعوذ ويسمى قبلها، واختلف فيما إذا قرأ آية والأكثر على أنه يتعوذ فقط ذكره المؤلف في شرحه من باب الجمعة ثم أعلم أنه لا فرق في الإتيان بالبسملة بين الصلاة الجهرية والسرية. وفي حاشية المؤلف على الدرر: واتفقوا على عدم الكراهة في ذكرها بين الفاتحة والسورة بل هو حسن سواء كانت الصلاة سريةً أو جهريةً. (1/174)

(فتاوی محمودیہ 5/593،ط:فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں