بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1444ھ 09 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

فرض روزوں کا کسی فوت شدہ رشتہ دار کو ایصال ثواب کرنا


سوال

کیا کوئی شخص رمضان کے تیس روزےرکھ کر آدھے روزوں کا ثواب اپنے فوت شدہ رشتے دار کو دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فرائض  اور واجبات کا ادا کرنا اپنی ذمہ داری ہے ،جوکہ لازم ہے لہذا فرض  عبادات ،نماز ،روزہ وغیرہ کا ایصال ثواب  زندہ اور مردہ کسی کےلیےنہیں کرسکتے،البتہ فرائض کے علاوہ نماز روزوں  کا ایصال ثواب زندہ ومردہ ہر کسی کے لیے کرسکتے ہیں ۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"وفي البحر من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة، كذا فی البدائع."

(کتاب الصلوۃ ،باب صلوۃ الجنائز ،243/2،ط:ایچ ایم سعید)

حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وفي كتاب الروح للحافظ أبي عبد الله الدمشقي الحنبلي الشهير بابن قيم الجوزية ما حاصله: أنه اختلف في إهداء الثواب إلى الحي؛ فقيل يصح لإطلاق قول أحمد: يفعل الخير ويجعل نصفه لأبيه أو أمه، وقيل لا لكونه غير محتاج لأنه يمكنه العمل بنفسه؛ وكذا اختلف في اشتراط نية ذلك عند الفعل، فقيل: لا لكن الثواب له فله التبرع به وإهداؤه لمن أراد كإهداء شيء من ماله، وقيل نعم لأنه إذا وقع له لا يقبل انتقاله عنه، وهو الأولى. وعلى القول الأول لا يصح إهداء الواجبات لأن العامل ينوي القربة بها عن نفسه. وعلى الثاني يصح، وتجزئ عن الفاعل."

(کتاب الصلوۃ ،باب صلوۃ الجنائز ،243/2،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

"عنوان :ایصال ثواب کا طریقہ :سوال : ایصال ثواب مردوں کو کس طرح کیا جائے؟

جواب:اگر نیک عمل ،تلاوت قرآن پاک ،نوافل ،خیرات  اس نیت سے کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچا دے تب بھی کافی ہے."

(کتاب الجنائز ،باب اھداء الثواب للمیت،203/9،ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں