بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

فرض روزے باقی ہوتے ہوئے نفل روزے رکھنے کا حکم


سوال

کیا کوئی شخص جس کے ذمے روزے باقی ہیں وہ نفل روزے رکھ سکتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس شخص کے ذمے فرض روزے باقی ہیں اس کے لیے نفل روزہ رکھنا جائز ہے،تاہم چوں کہ زندگی اور موت کا علم نہیں اس لیےبہتر یہ ہے کہ پہلے فرض روزوں کی قضاکرلی جائے،تاکہ اس کا ذمہ جلداز جلد فرض روزوں سے فارغ ہوجائے،اس کے بعد جتنے نفل روزے رکھنا چاہے رکھ لے۔

"بدائع الصنائع"میں ہے:

"والكلام في كيفية وجوب القضاء أنه على الفور أو على التراخي... وذلك على التراخي عند عامة مشايخنا، ومعنى التراخي عندهم أنه يجب في مطلق الوقت غير عين، وخيار التعيين إلى المكلف ففي أي وقت شرع فيه تعين ذلك الوقت للوجوب، وإن لم يشرع يتضيق الوجوب عليه في آخر عمره في زمان يتمكن فيه من الأداء قبل موته.وحكى الكرخي عن أصحابنا أنه على الفور، والصحيح هو الأول...ولهذا قال أصحابنا: إنه لا يكره لمن عليه قضاء رمضان أن يتطوع، ولو كان الوجوب على الفور لكره له التطوع قبل القضاء ."

(ص:١٠٤،ج:٢،کتاب الصوم،فصل حكم الصوم المؤقت إذا فات عن وقته،ط:دار الکتب العلمية)

"رد المحتار على الدر المختار"میں ہے:

"(وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء) لأنه على التراخي ولذا جاز التطوع قبله بخلاف قضاء الصلاة.

(قوله جاز التطوع قبله) ولو كان الوجوب ‌على ‌الفور لكره لأنه يكون تأخيرا للواجب عن وقته المضيق."

(ص:٤٢٣،ج:٢،کتاب الصوم،‌‌فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم،ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144412100161

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں