بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کا وقت ختم ہو رہا ہو اور شیر خوار بچہ روئے تو ماں کے لیے کیا حکم ہے؟ بچے کو دودھ پلائے یا نماز پڑھے؟


سوال

اگرفرض نماز کے وقت شیر خوار بچہ روئے اور فرض نماز کا وقت بھی ختم ہو رہا ہو تو ماں کو کیا کرنا چاہیے؟ نماز ادا کرنی چاہیے یا پھر بچے کو دودھ پلانا چاہیے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب شیر خوار بچہ روئے اور نماز کا وقت ختم ہو رہا ہو تو نماز پڑھنا لازم ہے، بچہ کو اگر کسی طریقہ سے خاموش کرایا جا سکتا ہو تو خاموش کرایا جائے، ورنہ نماز پڑھ کر دودھ پلایا جائے، بچے کے رونے کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنا اور اپنے وقت میں نہ پڑھنا جائز نہیں ہے، ایسا کرنے کی وجہ سے بچے کی ماں گناہ گار ہوگی، اگر کبھی ایسا کیا گیا ہے تو نماز کی قضا کرنا اور توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"والشأن في المسلم دينا وعقلا أن يبادر إلى أداء الصلاة في وقتها، ويأثم بتأخيرها عن وقتها بغير عذر، كما بينا في فضل الصلاة، لقوله تعالى: {فإذا اطمأننتم، فأقيموا الصلاة، إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا}، وتأخير الصلاة من غير عذر معصية كبيرة لا تزول بالقضاء وحده، بل بالتوبة أو الحج بعد القضاء.

ومن أخر الصلاة عن وقتها لعذر مشروع فلا إثم عليه، ومن العذر: خوف العدو، وخوف القابلة موت الولد، أو خوف أمه إذا خرجه رأسه، لأنه عليه السلام أخر الصلاة يوم الخندق."

(القسم الاول العبادات، الباب الثاني الصلاة، الفصل التاسع، المبحث الثاني قضاء الفوائت، معني القضاء وحكمه شرعاّ، ج: 2، ص: 1147، ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144407101108

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں