بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کی ہررکعت میں سورہ اخلاص پڑھنے والے صحابی کا واقعہ


سوال

وہ کون سے صحابی ہیں جو ہر نماز میں سورہ اخلاص پڑھتے تھے؟ اور جب لوگوں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات  کی شکایت کی تو آپ نے کیا جواب دیا تھا ؟ مکمل واقعہ  درکار ہے۔ 

جواب

ہر نماز میں تو نہیں ،البتہ فرض نماز کی ہررکعت میں سورہ اخلاص پڑھنے سے متعلق    دو مختلف  صحابیوں کے واقعات کتب ِ احادیث میں مذکور ہیں۔ذیل میں وہ دونوں واقعات اور ان سے متعلق تفصیل ذکرکی جاتی ہے:

پہلا واقعہ:

۱۔يہ واقعہ"صحيح البخاري" و"سنن الترمذي"میں مذکور ہے۔"صحيح البخاري"کی حدیث کے الفاظ  درج ذیل ہیں:

"وقال عُبيد الله عن ثابتٍ عن أنس بنِ مالكٍ -رضي الله عنه-: كان رجلٌ مِن الأنصار يؤمُّهم في مَسجد قباءٍ، وكان كلّما افتتح سورةً يقرأُ بها لهم في الصّلاة مما يقرأُ به افتتح بقُل هو الله أحد حتّى يفرُغ منها، ثم يقرأُ سورةً أُخرى معها، وكان يصنعُ ذلك في كلِّ ركعةٍ، فكلّمه أصحابُه، فقالوا: إنّك تفتتحُ بهذه السُّورة، ثُمّ لا ترى أنّها تُجزئك حتّى تقرأُ بِأخرى، فإمّا تقرأُ بها وإّما أن تدعَها وتقرأُ بِأخرى، فقال: ما أنا بِتاركِها، إنْ أحببتُم أنْ أؤمَّكم بِذلك فعلتُ، وإنْ كرهتُم تركتُكم، وكانوا يرَون أنّه مِن أفضلِهم، وكرِهوا أنْ يؤمَّهم غيرُه، فلّما أتاهمُ النبيُّ -صلّى الله عليه وسلّم- أخبرُوه الخبرَ، فقال: يَا فلانُ، ما يمنعُك أنْ تفعلَ ما يأمرُك به أصحابُك، وما يحمِلُك على لُزوم هذه السُّورة في كل ركعةٍ، فقال: إنِّي أُحبّها، فقال: حُبّك إيّاها أدخلك الجنّة".

(صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب الجمع بين السورتين في الركعة، 1/155، ط:دار طوق النجاة/ سنن الترمذي، أبواب فضائل القرآن، باب ما جاء في سورة الإخلاص، 5/169، رقم الحديث:2901، ط:مصطفى البابي الحلبي-مصر)

ترجمہ:

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:ایک انصاری مسجدِ قباء کے امام تھے،(سورہ فاتحہ کے بعد)انہیں   کسی  بھی سورت کی قراءت کرنی ہوتی، وہ  پہلے سورہ اخلاص  کی  قراءت  کرتےتھے،پھر اس کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرتےتھے، اس طرح سےوہ  ہررکعت میں کیا کرتے تھے،(ایک دن) ان کے  مقتدیوں نے اس  بارے میں ان سے بات کی  کہ آپ  اس سورت  سےقراءت شروع  کرتے ہیں، پھر آپ  (قراءت کی حد تک)  اسی سورت  کو کافی نہیں سمجھتے  کہ اس کے بعد  د وسری سورت کی بھی قراءت  کرتے ہیں،یا تو آپ(صرف) اسی کی قراءت کرلیاکریں، یاتو اسے چھوڑ کردوسری سورت ہی پڑھ لیا کریں،انہوں نے جواب دیا:میں تو اس سورت ( کی قراءت ) نہیں چھوڑوں گا،اگر تم چاہتے  ہو کہ میں تمہارا امام رہوں تو میں اسی طرح سے کروں گا،اوراگر تمہیں(میرا اس طرح سے قراءت کرنا) ناپسند یدہ ہے تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں گا۔وہ لو گ انہیں  اپنے درمیان  سب سے افضل سجھتے تھےاور انہیں یہ بھی پسند نہیں تھاکہ ان کے علاوہ کوئی اور ان کاامام بنے،(ایک دن) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کےپاس تشریف لائےتو انہوں نےآپ کو اس ساری صورت حال کی  اطلاع دی ، آپ صلی اللہ  علیہ وسلم نے( ان صحابی کو مخاطب کرکے) ارشاد فرمایا:اے فلاں! اپنے مقتدیوں کی بات ماننے سے تمہیں کیاچیز مانع ہے؟اور تمہیں ہررکعت میں  اس  سورت  کےلازم سمجھنے پرکیاچیز آمادہ کررہی ہے؟انہوں نے عرض کیا:مجھے اس سورت سے محبت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا‘‘۔

۲۔مذکورہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے "صحيح البخاري"میں تعلیقاً ذکر کی ہے(یعنی روایت  کی سند  کی ابتدا میں سے بعض راویوں کو حذف کرکے ذکرکیا ہے)، امام ترمذی رحمہ اللہ نے"سنن الترمذي"میں اسی حدیث کو   امام بخاری رحمہ اللہ سے موصولًا ذکر کیا ہے(یعنی سند کے تمام راویوں کو ذکر کیا ہے)، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے بھی "تغليق التعليق"میں اس حدیث کو  موصولاَ  ذکر کیاہے،چنانچہ وہ  حدیث کو موصولًا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"والّذي اتفق في حديث عُبيد الله بنِ عمر مِن تخريجنا له مِن طريق البُخاريِّ المعلَّق له حسنٌ جداً".

ترجمہ:

’’امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے عبید اللہ بن عمر کی جس معلق روایت کی ہم نے تخریج کی ہے، یہ حسنٌ جداً  ہے‘‘۔

(تغليق التعليق،باب الجمع بين السورتين في الركعة،  ج:2، ص:314-316، ط: المكتب الإسلامي-بيروت)

۳۔مذکورہ حدیث میں "رجلٌ مِن الأنصار"سے مراد کونسے صحابی ہیں؟شارحینِ حدیث نے اس سلسلے میں درج ذیل پانچ اقوال ذکر کیے ہیں:

۱۔حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ ابن مندہ نے"كتاب التوحيد"اورابو موسی نے "كتاب الصحابة"میں اس قول کو ذکر کیا ہے،ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:یہ قول زیادہ صحیح ہے۔

۲۔ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:یہ قول صحیح نہیں ہے۔ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:یہ قول انتہائی بعید ہے،اس لیے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کےواقعہ میں یہ ہے کہ وہ اس سورت کو رات کے وقت میں بار بارپڑھا کرتے تھے،نیز حالتِ سفر وحضر کسی بھی حالت  میں ان کا  امام بن کر اس سورت کو پڑھنا مذکور نہیں ہے،اور نہ ہی ان سے کسی نے اس بار  میں پوچھا(کہ آپ اسے اتنا   کیوں پڑھتے ہیں؟)۔

۳۔حضرت کلثوم بن زہدم رضی اللہ عنہ  مراد ہیں۔

۴۔حضر ت کرز بن زہدم رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔

۵۔حضرت مکتوم بن ہدم رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔

"فتح الباري لابن حجر"میں ہے:

"قوله:( كان رجلٌ من الأنصار يؤمُّهم في مسجد قُباء) هو كلثوم بنُ الهِدْم، رواه بنُ منده في كتاب التوحيد من طريق أبي صالحٍ عن بنِ عباسٍ، كذا أورده بعضُهم. والهِدْمُ بكسر الهاء وسكون الدال: وهو من بني عمرو بنِ عوفٍ سُكّان قباء وعليه نزل النبيُّ -صلّى الله عليه وسلّم- حين قدِم في الهجرة إلى قُباء. قيل: وفي تعيين المبهم به هنا نظرٌ؛ لأنّ في حديث عائشة في هذه القصّة أنّه كان أميرُ سريّة، وكلثوم بنُ الهِدْم مات في أوائل ما قدِم النبيُّ -صلّى الله عليه وسلّم- المدينة فيما ذكره الطبريُّ وغيرُه من أصحاب المغازي، وذلك قبل أنْ يبعث السَّرايا، ثُمّ رأيتُ بِخط بعض من تكلّم على رجال العُمدة: كلثومُ بن زهدم وعزاه لابنِ منده، لكنْ رأيتُ أنا بِخط الحافظ رشيدِ الدين العطّار في حواشي مُبهمات الخطيب نقلاً عن صفة التصوّف لابنِ طاهر: أخبرنا عبدُ الوهاب بنُ أبي عبد الله بنِ منده عن أبيه فسمّاه كُرْز بنُ زَهدَم فاللهُ أعلم، وعَلى هذا فالذي كان يؤمُّ في مسجد قُباء غير أمير السّريِّة، ويدلُّ على تغايُرِهما أنّ في رواية الباب أنّه كان يبدأً بقُل هو الله أحد وأميرُ السّرِيّة كان يختمُ بها، وفي هذا أنّه كان يصنعُ ذلك في كل ركعة ولم يُصرَّح بذلك في قصّة الآخر، وفي هذا أنّ النبيَّ -صلّى الله عليه وسلّم- سأله وأميرُ السّريّة أمر أصحابَه أنْ يسألُوه، وفي هذا أنّه قال إنّه يُحبُّها فبشَّره بالجنّة وأميرُ السّريّة قال: إنّها صفةُ الرحمن فبشّره بأنّ اللهَ يُحبُّه، والجمعُ بين هذا التغاير كلِّه ممكنٌ لولا ما تقدّم مِن كونِ كلثوم بنِ الهِدْم مات قبل البُعوث والسّرايا. وأمّا مَن فسّره بأنّه قتادة بنُ النعمان فأبعد جداً؛ فإنّ في قصّة قتادة أنّه كان يقرؤُها في الليل يردّدها، ليس فيه أنّه أمّ بِها، لا في سفرٍ ولا في حضرٍ، ولا أنّه سُئل عن ذلك ولا بشرٌ، وسيأْتي ذلك واضحاً في فضائل القرآن، وحديثُ عائشة الذي أشرنا إليه أورده المصنِّف في أوائل كتاب التوحيد كما سيأْتي إن شاء الله تعالى".

(فتح الباري لابن حجر، باب الجمع بين السورتين في ركعة، 2/258، ط: دار المعرفة-بيروت)

"عمدة القاري"میں ہے:

"قوله:(كان رجلٌ من الأنصار) هو كلثوم بنُ هِدْمٍ، كذا ذكره أبو موسى في (كتاب الصحابة) ، والهِدْمُ، بكسر الهاء وسكون الدال: وهو من بني عمرو بنِ عوف سُكّان قُباء، وعليه نزل النبيُّ - صلّى الله عليه وسلّم لمّا قدِم في الهجرة إلى قُباء، وقيل: هو قتادة بنُ النعمان، وليس بصحيحٍ؛ فإنّ في قصة قتادة أنّه كان يقرؤُها في الليل يردّدها، ليس فيه أنه أمّ به ، لا في سفرٍ ولا في حضرٍ، ولا أنّه سُئل عن ذلك ولا بشرٌ".

(عمدة القاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب الجمع بين السورتين في ركعة، 6/43، ط: دار إحياء التراث العربي-بيروت)

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:

"(وعن أنسٍ قال: إنّ رجلاً) قال مِيرك: اسمُه كلثوم، وقيل: كُرْزم، والأوّل أصحُّ ".

(مرقاة المفاتيح، كتاب فضائل القرآن، 4/1467، رقم الحديث:2130، ط: دار الفكر،بيروت-لبنان)

"نيل الأوطار للشوكاني"میں ہے:

"قوله: (كان رجلٌ) هو كلثوم بنُ الهِدْم، ذكره ابنُ منده في كتاب التوحيد. وقيل: قتادة بنُ النعمان، وقيل: مكتُوم بنُ هِدْمٍ، وقيل: كُرْز بنُ هِدْمٍ".

(نيل الأوطار، أبواب صفة الصلاة، باب قراءة سورتين في كل ركعة، 2/264، رقم الحديث:710، ط: دار الحديث-مصر)

دوسرا واقعہ:

۱۔یہ واقعہ "صحيح البخاري"،"صحيح مسلم"اور"سنن النسائي"میں مذکور ہے۔"صحيح البخاري"کی حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"عن عائشة-رضي الله عنها- أنّ النبيّ -صلّى الله عليه وسلّم- بعث رجلاً على سريّة، وكان يقرأُ لأصحابه في صلاتهم فيختِم بقُل هو الله أحد، فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبيّ -صلّى الله عليه وسلّم-، فقال: سلُوه لأيِّ شيءٍ يصنعُ ذلك؟ فسألُوه، فقال: لأنّها صفةُ الرحمن، وأنا أحبُّ أنْ أقرأ بها، فقال النبيّ -صلّى الله عليه وسلّم-: أخبِرُوه أنّ الله يحبُّه".

(صحيح البخاري، كتاب التوحيد، باب ماجاء في دعاء النبي صلى الله عليه وسلم أمته ... إلخ، 9/115، رقم الحديث: 7375، ط: دار طوق النجاة/صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل قراءة قل هو الله أحد، 1/557، رقم الحديث:813، ط: دار إحياء التراث العربي-بيروت/ سنن النسائي، كتاب الافتتاح، الفضل في قراءة قل هو الله أحد، 2/170، رقم الحديث: 993، ط: مكتب المطبوعات الإسلامية-حلب)

ترجمہ:

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سریہ (دستے) کا امیر بناکر بھیجا،وہ ہرنماز میں قراءت کے آخر میں  سورہ  اخلاص پڑھتے تھے، جب وہ لوگ واپس لوٹے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟لوگوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا:اس لیے کہ یہ رحمن کی صفت ہے(یعنی اس سورت  میں رحمن کے اوصاف کا ذکر ہے)،اور مجھے یہ پسند ہے کہ میں  اسے پڑھتا رہوں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:انہیں خبردے دو کہ اللہ تعالی (بھی)ان سے محبت رکھتےہیں‘‘۔

۲۔مذکورہ واقعہ میں "رجُلاً"سے مراد کو نسے صحابی ہیں؟عام طورپر  شارحین ِ حدیث نے دونوں واقعات کو ایک ہی سمجھ کر ان کانام "كلثوم بن الهدم"ذکر کیا ہے،حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ  ودیگر حضرات نے احادیث کی روشنی میں دونوں  واقعات  کے درمیان درج ذیل  پانچ وجوہ سے فرق بیان کرکے اس قول کی تردید کی ہے:

۱۔مسجدِ قباء کے امام سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کی ابتداء  سورہ اخلاص سے کرتے تھے،جب کہ سریہ  کے امیر قراءت کا اختتام سورہ اخلاص پرکرتے تھے۔

۲۔مسجدِ قباء کے امام  سے متعلق حدیث میں صراحت ہے کہ وہ ہررکعت میں ایسے کیا کرتے تھے،جب کہ سریہ کے امیروالے واقعہ میں اس کی صراحت نہیں۔

۳۔مسجدِ قباء کے امام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دریافت کیا تھاکہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟جب  کہ  سریہ کے امیر  کے ساتھیوں  کو حکم دیا تھا کہ ان سے پوچھو :وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟

۴۔مسجد قباء کے امام نے جواب دیاتھا کہ انہیں اس سورت سے محبت ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی۔جب کہ سریہ کے امیر نے جواب دیا تھا:اس میں رحمن کی صفت ہے اس لیے پڑھتاہوں ، اس پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی تھی کہ اللہ تعالی ان سے محبت رکھتےہیں۔

۵۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ وہ سریہ کے امیر تھے،جب کہ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ تو  حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری  کے ابتدائی دور میں ہی وفات ہی پاگئے تھے،جب کہ سرایا بھیجے جانے  جانے کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہواتھا۔

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر حضرت  کلثوم بن ہدم  رضی اللہ عنہ کی وفات سرایا بھیجے جانے کاسلسلہ شروع ہونے سے پہلے نہ ہوتی تو دیگر تمام وجوہ سے فرق کے باوجود ان دونوں واقعات کاجمع ہوناممکن تھا کہ یہ ایک ہی صحابی  حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے دوواقعات ہوں، مگر چوں کہ ان  کا انتقال پہلے ہوا ہےاس لیے دونوں واقعات کا ایک  صحابی سے متعلق ہونا ممکن نہیں ۔(یہ تمام تفصیل پہلے واقعہ کے تحت "فتح الباري"کے حوالے میں مذکور ہے)۔

خلاصہ یہ ہے کہ فرض کی نماز میں ہررکعت میں سورہ اخلاص  پڑھنے سے دو صحابیوں کے واقعات کتبِ احادیث میں مذکورہے، جن میں   ایک صحابی  مسجدِ قباء کے امام تھے،جن کانام صحیح قول کے مطابق حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ ہے، اور دوسراواقعہ سریہ کے امیرصحابی کا ہے، جن کے نام کے متعلق شروحِ حدیث میں صراحت نہیں مل سکی۔

نماز کی ہررکعت میں سورہ  اخلاص پڑھنے کا حکم:

 واضح رہے کہ  بغیر کسی عذر کےفرض نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد  ایک ہی سورت کی باربارقراءت کرنامکروہ ہے، البتہ نوافل میں مکروہ نہیں ہے،لہذا  بغیر عذر کے فرض نماز کی ہررکعت میں سورہ اخلاص کی قراءت کرنا مکروہ ہے۔ مذکورہ بالااحادیث  جن  دو صحابیوں کے  واقعات  اس سلسلے میں ذکر ہوئےہیں ، وہ ان کی خصوصیت ہے ، عمومی حکمِ شرعی  نہیں ہے۔

"فتح الباري لابن رجب"میں ہے:

"وقد دلّ حديثُ أنسٍ وعائشة على جواز جمع سُورتين مع الفاتحة في ركعةٍ واحدةٍ مِن صلاة الفرض؛ فإنّ النبيَّ صلّى الله عليه وسلّم لم ينهه عن ذلك.ويدلّ على أنّه ليس هو الأفضل؛ لأنّ أصحابَه استنكرُوا فعلَه وإنما استنكرُوه، لأنّه مخالفٌ لما عهِدوه مِن عمل النبيِّ صلّى الله عليه وسلّم وأصحابِه في صلاتهم، ولِهذا قال له النبيُّ صلّى الله عليه وسلّم: ما يمنعُك أنْ تفعل ما يأمرُك به أصحابُك؟فدلّ على أنّ موافقتَهم فيما أمرُوه به كان حسناً، وإنما اغتفر ذلك لمحبّته لهذه السُّورة.وأكثرُ العلماء على أنّه لا يُكره الجمع بين السُّور في الصلاة المفروضة، ورُوي فعلُه عن عمرَ وابن عمرَ وعمرَ بنِ عبد العزيز وعلقمةُ، وهو قولُ قتادة والنخعيُّ ومالكٌ، وعن أحمدَ في كراهته روايتانِ، وكرِهه أصحابُ أبي حنيفة".

(فتح الباري لابن رجب، كتاب الآذان،  باب الجمع بين السورتين في الركعة، ج:7، ص:73-74، ط:دار الحرمين- القاهرة)

"حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح"میں ہے:

"ويُكره (تكرارُ السُّورة في ركعةٍ واحدةٍ من الفرض) وكذا تكرارُها في الرَّكعتين إنْ حفِظ غيرَها وتعمّده لعدم وُرودِه، فإن لم يحفظْه وجب قراءتُها لوجوب ضمِّ السُّورة للفاتحة، وإنْ نسِي لايترك لقوله صلّى الله عليه وسلّم: إنِ افتتحتَ سُورةً فاقرأْها على نحوِها. وقيّد بالفرض؛ لأنّه لا يُكره التكرار في النفل؛ لأنّ شأنه أوسعُ؛ لأنّه صلّى الله عليه وسلّم قام إلى الصَّباح بآيةٍ واحدةٍ يُكرِّرها في تهجّده، وجماعةٌ مِن السلف كانوا يُحيون ليلتَهم بآية العذابِ أو الرحمةِ أو الرجاءِ أو الخوفِ".

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب في ما لا يفسد الصلاة، فصل في المكروهات، ص:352، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101264

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں