بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے بعد بلند آواز سے درود شریف پڑھنے کا حکم


سوال

 بریلوی حضرات جو فرض نماز کے بعد بلند آواز سے درود و سلام پڑھتے ہیں جو کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ثابت نہیں ہے تو جب انہیں منع کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ثابت نہیں ہے لیکن پڑھنے میں کیا حرج ہے یعنی درود پڑھنا تو ثواب ہی کا کام ہے ، براہ کرم اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں ؟

جواب

بلا شبہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجناباعث اجر  و ثواب ہے،  احادیث میں کثرت سےدرود پڑھنے کے فضائل اور اس کے پڑھنے کی ترغیب آئی ہے،لیکن نماز جو کہ تمام عبادات میں افضل ترین عبادت ہے ،دین کا ستون ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانہ میں تو سارے ہی مسلمان نماز  اہتمام سے ادا کرتے تھے ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ عام حالات میں تو منافق کی بھی نماز چھوڑنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی اور  جو شخص دو لوگوں کے سہارے مسجد آسکتا  وہ بھی صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا،غور کیجئے کہ کس قدر اہتمام ہو گا ،نیز درود شریف کے جتنے فضائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےبیان فرمائیں ہیں  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعینِ کرام و تبع تابعینِ کرام رحمہم اللہ ان سے بخوبی واقف اور ہم سے کہیں زیادہ اعمال کے حریص تھے ،اس کے باوجود کہیں بھی کسی نقل سے ان اسلاف سے نماز کے بعد  مروجہ طریقہ سے درود پڑھنا ثابت نہیں ہے ،علاوہ ازیں عبادت کا ایک ایسا طریقہ ایجاد کرنا جو سلف صالحین سے ثابت نہیں اور اس پر اصرار کرنا  اور ایسا نہ کرنے والوں پر لعن طعن کرنا  دین میں زیادتی کے مترادف ہے ،بالفاظ دیگر حقیقت میں شریعتِ محمدیہ کو ناقص قرار دیناہے ،نیز یہ بات مسلم ہے کہ مساجد میں فرائض جہریہ کے علاوہ نفل نمازوں میں دوسرے لوگ کا نقصان کرکے بلند آواز سے قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے  تواجتماعی طور پر درود شریف پڑھنا جب کہ  دوسرے لوگوں نوافل وغیرہ میں مشغول ہوں کیوں کر جائز ہو گا،فتاوی شامی میں ہےکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت کو جو مسجد میں بلند آواز سے تہلیل اور درود شریف پڑھتے تھے نکال دیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم بدعتی ہو،کیا آپ نے درود شریف پڑھنے کو بدعت کہا ،نہیں ہرگز نہیں ،بلکہ عبادات میں سے ہر عبادت کے لیے شرائط وآداب ، اور اوقات کا لحاظ ضروری ہے، اسی طرح درود شریف کے لیے بھی کچھ شرائط وآداب او ر اوقات ہیں ،ان کی عدم رعایت کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ۔

صحیح مسلم میں ہے :

"حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، عن أبي العميس، عن علي بن الأقمر، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، قال: من ‌سره ‌أن ‌يلقى الله غدا مسلما، فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادى بهن، فإن الله شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم سنن الهدى، وإنهن من سنن الهدى، ولو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته، لتركتم سنة نبيكم، ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم، وما من رجل يتطهر فيحسن الطهور، ثم يعمد إلى مسجد من هذه المساجد، إلا كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة، ويرفعه بها درجة، ويحط عنه بها سيئة، ولقد رأيتنا وما يتخلف عنها إلا منافق معلوم النفاق، ولقد كان الرجل يؤتى به يهادى بين الرجلين حتى يقام في الصف"

(کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الہدی،ج:1،ص:453،ط:دار احیاء التراث )

فتاوی شامی میں ہے:

"لما صح عن ابن مسعود أنه ‌أخرج ‌جماعة من المسجد يهللون ويصلون على النبي - صلى الله عليه وسلم - جهرا وقال لهم  ما أراكم إلا مبتدعين ۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:398،ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"فإن نفي السنية لا يستلزم الكراهة، نعم إن كان مع المواظبة كان بدعة فيكره۔"

(کتاب الصلاۃ ،باب الوتر والنوافل ،ج:2،ص:49،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502102357

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں