بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے سجدوں میں دعا کرنے کا حکم


سوال

اگر با جماعت نماز  میں سجدہ کی حالت میں تسبيحات كے بعد یہ دعاء پڑھیں "اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عنا"، تو کیا نماز  فاسد تو نہیں ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں عربی زبا ن میں ایسی دعا کرنے کی گنجائش ہے کہ جس دعا میں ایسے کلمات ہوں جو کہ قرآن وحدیث سے منقول ہوں اور وہ دعا کلام الناس کے مشابہ نہ ہو، البتہ فرائض میں افضل یہی ہے کہ سجدے میں صرف تسبیحات پڑھی جائیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص مذکورہ کلمات فرض نماز میں پڑھ لے تو نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ بہتر یہی ہے کہ فرض نمازوں کےسجدوں میں صرف تسبیحات پر اکتفا کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ودعا) بالعربية، وحرم بغيرها۔۔۔(بالأدعية المذكورة في القرآن والسنة. لا بما يشبه كلام الناس)۔۔۔والمختار كما قاله الحلبي أن ما هو في القرآن أو في الحديث لا يفسد."

(باب صفة الصلاة،ج:1،ص:523،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144402100925

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں