بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1443ھ 24 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

فرض عین اور فرض کفایہ کا مطلب


سوال

فرض کفایہ اور فرض عین سے کیا مراد ہے؟

جواب

فرض عین:

فرض عین سے مراد وہ فرض ہے جس کا ادا کرنا ہر عاقل بالغ پر ضروری ہے، جیسے پنجگانہ نماز اور دیگر فرض شدہ احکام۔

فرض کفایہ:

فرض کفایہ سے مراد وہ فرض ہےجس کو  ایک دو مسلمان ادا کرلیں تو سب مسلمانوں کے ذمے  سے فرض ساقط ہوجائےگا، اور اگر  ایک آدمی بھی ادا  نہ کرے  تو سب مسلمان گناہ گار ہوں،  جیسے غسل میت، اور نماز جنازہ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فرض عين: أي فرض ثابت على كل واحد من المكلفين بعينه كما أشار إليه في شرح التحرير حيث فرق بينه وبين فرض الكفاية، بأن الثاني متحتم مقصود حصوله من غير نظر بالذات إلى فاعله بخلاف الأول فإنه منظور بالذات إلى فاعله حيث قصد حصوله من عين مخصوصة، كالمفروض على النبي - صلى الله عليه وسلم - دون أمته، أو من كل عين عين: أي واحد واحد من المكلفين. اهـ. والظاهر أن الإضافة فيهما من إضافة الاسم إلى صفته: كمسجد الجامع، وحبة الحمقاء: أي فرض متعين: أي ثابت على كل مكلف بعينه، وفرض الكفاية: معناه فرض ذو كفاية: أي يكتفى بحصوله من أي فاعل كان تأمل." 

(كتاب الصلوة، ج:1، ص:538، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201859

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں