بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

فارقلیط کے معنی


سوال

"فارقلیط"  کیا عبرانی زبان کا لفظ ہے؟ اس کے کیا معنی ہیں؟ کیا بچہ کا یہ نام رکھنا درست ہے؟

جواب

"فارقلیط" اصل میں یونانی زبان کا لفظ ہے، یونانی سے عبرانی زبان میں منتقل ہوا، اور یہ لفظ کئی معانی میں مشترک ہے، جن میں سے چند معانی درج ذیل ہیں:

ستودہ و محمود، تسلی دینے والا، معین و مددگار، سراہنے والا، ثقہ اور معتبر۔

بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ صحیح ترجمہ عربی میں لفظ "احمد"ہے۔

تفسیر معارف القرآن میں مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"چنانچہ یوحنا کی انجیل مترجمہ عربی مطبوعہ لندن سن 1831 ء و سن 1833 ء کے چودہویں باب میں ہے کہ ” تمہاری لیے میرا جانا ہی بہتر ہے؛ کیوں کہ اگر میں نہ جاؤں تو "فارقلیط" تمہارے پاس نہ آوے، پس اگر میں جاؤں تو اس کو تمہارے پاس بھیج دوں گا“، فارقلیط ترجمہ احمد کاہے، اہلِ کتاب کی عادت ہے کہ وہ ناموں کا بھی ترجمہ کر دیتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے عبرانی میں "احمد" فرمایا تھا، جب یونانی میں ترجمہ ہوا تو "بیرکلوطوس" لکھ دیا، جس کے معنی ہیں احمد یعنی بہت سراہا گیا، بہت حمد کرنے والا، پھر جب یونانی سے عبرانی میں ترجمہ کیا تو اس کو "فارقلیط" کر دیا اور بعض عبرانی نسخوں میں اب تک نام مبارک "احمد" موجود ہے، دیکھو پادری پار کہرست کی یہ عبارت: "دباد حمدہ خل ہکوٹیم"، از حمایت الاسلام مطبوعہ بریلی سن 1873 ءص:8481 ترجمہ اپالوجی گاؤ فری ہینگنسن مطبوعہ لندن سن 1829 ء اور اس فارقلیط کی نسبت اس انجیل یوحنا میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ تمہیں سب چیزیں سکھا دے گا“، "اس جہاں کا سردار آتاہے"، "وہ آکر دنیا کو گناہ پر اور راستی و عدالت کے خلاف پر سزا دے گا"، یہ ہیں وہ الفاظ جو نبی مستقل ہونے پر دال ہیں"۔ (8/422،ط:دارالعلوم کراچی)

معنی کے لحاظ سے فی نفسہ یہ نام رکھنا درست ہے۔ تاہم اس کے بجائے انبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسماء گرامی یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں پر نام رکھنا زیادہ بہتر ہے، یا عربی زبان میں  ایسانام رکھا جائے جو بامعنی ہو۔ نیز چوں کہ "فارقلیط" کتبِ سماویہ میں رسول اللہ ﷺ کے نام مبارک "احمد" کا ترجمہ ہے، جیساکہ مذکورہ بالاتفصیل سے معلوم ہوا، اس لیے زیادہ  بہتر یہ ہے کہ "فارقلیط" کی بجائے "احمد" نام (جو اصل ہے،یہ) رکھ لیاجائے۔

-تفسیر عثمانی ، 3/685،ط:دارالاشاعت کراچی۔

-سیرۃ المصطفی ، مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ ، 3/486،ط:کتب خانہ مظہری۔

-اظہارالحق، 3/321،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی۔

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144202200912

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں