بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

داخلہ فارم کے ذریعے طلبہ سے وکالت حاصل کرنا


سوال

 ہمارا ایک دینی ادارہ  ہے، جس میں بچوں اور بچیوں کو دینی و عصری تعلیم دی جاتی ہے، نیز اس ادارے کے ساتھ ہم نے ایک فاؤنڈیشن بھی قائم کی ہے، جس کے تحت ہم زکوٰۃ، صدقات، چرم قربانی اور صدقۂ فطر وغیرہ بھی جمع کرتے ہیں، اور فاؤنڈیشن میں آمدہ رقوم کو ان کے متعینہ مصارف میں خرچ کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، تاہم ادارے کے منتظمین کی چاہت یہ ہے کہ وہ اپنا مالیاتی نظم مرتب کرکے قواعد و ضوابط وضع کرلے؛ تاکہ آئندہ اسے مالیات کے حوالے سے دستوری حیثیت حاصل ہوجائے، اسی ضمن میں حضرات مفتیانِ کرام سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں، درخواست ہے کہ جوابات قرآن و سنت اور فقہاءِ کرام کی صریح عبارات کی روشنی میں دیجیے گا؛ تاکہ علی بصیرۃٍ اسے ضابطہ بناکر ادارے میں نافذ کیا جاسکے، ہم مختلف موضوعات کے سوالات کو علیحدہ علیحدہ استفتا بناکر جمع کروا رہے ہیں؛ تاکہ آپ حضرات کے نظم کے مطابق جواب کے اجرا میں سہولت رہے: 1- کیا طلبہ کے داخلے کے بعد بطاقۃ القبول دیتے وقت حلف نامہ پُر کروا کر وکالت حاصل کی جاسکتی ہے؟

2- اگر مستحق طلبہ سے وکالت حاصل کی جاسکتی ہے تو ایک طالب علم سے داخلے کے وقت حاصل کردہ وکالت کب تک باقی سمجھی جائے گی؟

3- مستحق طلبہ سے وکالت لینے کے بعد مہتمم زکوٰۃ کی آمدہ رقم کو کن کن مصارف میں صرف کرنے کا مجاز ہوگا؟ یعنی اگر مستحق طلبہ سے عمومی وکالت حاصل کرلی جائے تو کیا واجب صدقات کی مد میں آنے والی رقوم کو دیگر مصارف میں صرف کرنا جائز ہوگا؟

4- اگر مستحق طلبہ سے ابتدا میں وکالت حاصل کرنا درست نہیں ہے تو مستحق طلبہ کی ضروریات زکوۃ  اور واجب صدقات وغیرہ سے کس طرح پوری کی جائیں؟ یعنی تملیک کی کون سی صورت کسی شک و تردد کے بغیر جائز ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ تمام مدارس کے مہتممین ومنتظمین وصولی زکوٰۃ کے بارے میں عمال بیت المال کےطرح ہیں یعنی مستحق طلبہ  کی جانب سے مہتمم  کی حیثیت وکیل اورامین کی ہوتی ہے،  وکیل ہونے کاثمرہ یہ ہےکہ  معطیین (زکوٰۃ دینے والے) اگر مہتمم  کوزکوۃ کی رقم حوالے کرے، تو ان کی زکوۃ اداہوجائے گی   نیز اگر  اسی زکوۃ کی رقم پر سال گزر جائے، تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی،اورامین بایں طور ہے کہ اگر بغیر تعدی کے وہ رقم ہلاک ہوجائے تو مہتمم  پرضمان نہیں آئےگا، نیز وصولی زکوۃ کے بعد  اسے جہت متعینہ یعنی مستحق طلبہ  میں تقسیم کرنااورانہیں زکوٰۃ،صدقات واجبہ کا بلا عوض مالک بنانا بھی ضروری ہے،بلاتملیک شرعی  مہتمم  مدرسہ یامنتظم ِ مدرسہ کواس میں کسی قسم کے تصرفات کی اجازت واختیار نہیں ۔

نیز یہ کہ جس طرح  مہتمم  ومنتظم طلبہ  کی طرف سے وکیل وامین ہے،اسی طرح معطیینِ زکوۃ وصدقات کی جانب سےبھی وکیل وامین ہے،کہ زکوٰۃ وصدقات کو اپنے متعین مصرف   یعنی مستحق طلبہ  کے وظائف و دیگر اخراجات میں خرچ کرے، اس کے خلاف کسی غیرمصرف میں خرچ نہ کریں۔

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ طریقہ پر وکالت حاصل کرنا درست ہے  کہ داخلہ فارم وصول کرتے وقت طلبہ  سے داخلہ فارم کے اندر وکالت نامہ میں دستخط  لینے سے مہتمم  ومنتظم مدرسہ طلبہ  کے طرف سے وکیل بن جاتاہے اور مال زکوٰۃ پر وکیل کا قبضہ  موکل (طلبہ) کاقبضہ  شمار ہوتا ہے اور  اگرادارہ  والے طلبہ سے اخذ زکوۃ   کے لیے صراحتاً وکالت کا اختیار نہ بھی لیں، تب بھی دلالتًا  یہ اجازت پائی جاتی ہے ؛ کیوں کہ عرف میں طلبہ  کی طرف سے اجازت  ہوتی ہے،نیز  مہتمم مدرسہ کا  طلبہ کی طرف سے وکالت صرف معطیین زکوۃ  سےاخذزکوٰۃ میں ہوتی ہے، اس کے بعد طلبہ کی ملکیت میں زکوۃ  کی رقم دینا ضروری ہوتاہے۔

شرعی تملیک کے بعد طالب علم مدرسہ کو  اپنے تعلیمی اخراجات کے طور پر وہ رقم   دے دے، بعد ازاں وہ رقم ادارہ  کی ضروریات میں استعمال کی جائے۔

قرآن مجيد ميں ہے:

{ إِنَّمَا ‌الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِينِ وَالْعٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِي سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيْمٌ}

                                (سورة التوبۃ/اٰیت نمبر60)

شرح معانی الاٰثار میں ہے:

"عن زياد بن نعيم، أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي يقول: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم على قومي، فقلت: يا رسول الله، ‌أعطني من صدقاتهم، ففعل وكتب لي بذلك كتابًا. فأتاه رجل فقال: يا رسول الله، ‌أعطني من الصدقة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله عز وجل لم يرض بحكم نبي و لا غيره في الصدقات، حتى حكم فيها هو من السماء، فجزأها ثمانية أجزاء، فإن كنت من تلك الأجزاء أعطيتك منها». قال أبو جعفر... فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك حكم الصدقات إلى ما ردها الله عز وجل إليه بقوله: { «إنما الصدقات للفقراء والمساكين» } [التوبة: ٦٠] الآية. فكل من وقع عليه اسم صنف من تلك الأصناف، فهو من أهل الصدقة الذين جعلها الله عز و جل لهم في كتابه و رسوله في سنته زمنًا كان أو صحيحًا."

(کتاب الزکوٰۃ /ج:2/ص:17/رقم :3011/ط:عالم الکتب)

مجمع الأنہر میں ہے:

"و الحیلة أن یتصدق علی الفقیر ثم یأمره بفعل هذه الأشیاء فتکون لربّ المال ثواب الزکوة و للفقیر ثواب هذا التقرب."

( کتاب الزکاۃ، باب المصرف/ج:1/ص:328/ط: دارالکتب)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"و كذلك في جميع ‌أبواب ‌البر التي لايقع بها التمليك كعمارة المساجد و بناء القناطر و الرباطات لايجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه ... (و الحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة ...(والحيلة في ذلك) أن يتصدق السلطان بذلك على الفقراء، ثم الفقراء يدفعون ذلك إلى المتولي يصرف ذلك إلى الرباط كذا في الذخيرة."

(کتاب الحیل/ج:6/ص:392/ط:رشیدیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و يتصل بهذا العالم إذا ‌سأل ‌للفقراء شيئًا و خلط يضمن. قلت: و مقتضاه أنه لو وجد العرف فلا ضمان لوجود الإذن حينئذ دلالةً. والظاهر أنه لا بد من علم المالك بهذا العرف ليكون إذنًا منه دلالةً."

(کتاب الزکوٰۃ/ج:2/ص:269/ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144302200029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں