بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

انزال ہوئے بغیر مباشرت سے غسل کا حکم


سوال

 اگر دورانِ مباشرت مرد اور عورت دونوں فارغ نہ ہوں تو غسل واجب ہو جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر  مرد کے آلۂ تناسل کا  صرف  حَشَفَہ  (آگے کا حصہ)  عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو  بھی غسل واجب ہو جاتا ہے،  چاہے انزال ہو یا نہ ہو، اور   اگر مذکورہ حصہ  داخل نہ ہوا ہو تو غسل واجب نہیں ہو تا، جب تک کہ انزال (شہوت کے ساتھ منی خارج) نہ ہوجائے۔

یعنی اگر میاں بیوی آپس میں اس طرح ملیں کہ ان دونوں کی شرم گاہیں ایک دوسرے سے صرف مل جائیں،  لیکن دخول کچھ نہ ہو  اور انزال  بھی نہ ہو تو اس سے ان دونوں میں سے کسی پر بھی غسل واجب نہ ہو گا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 36):

" والثاني: ‌إيلاج ‌الفرج في الفرج في السبيل المعتاد سواء أنزل، أو لم ينزل لما روي أن الصحابة - رضي الله عنهم - لما اختلفوا في وجوب الغسل بالتقاء الختانين بعد النبي - صلى الله عليه وسلم - وكان المهاجرون يوجبون الغسل، والأنصار لا، بعثوا أبا موسى الأشعري إلى عائشة - رضي الله عنها - فقالت سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة وجب الغسل أنزل، أو لم ينزل» فعلت أنا ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - واغتسلنا فقد روت قولا، وفعلا ."

(كتاب الطهارة، فصل الغسل، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144308101674

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں