بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعاء کا حکم


سوال

کیا فرض کے بعد اجتماعی دعا لازم ہے؟اگر نہیں تو پھر اس کو لازم سمجھنا بدعت ہوگا۔ہمارے ہاں لازم ہی سمجھا جاتا ہے،کیونکہ اگر کبھی ایک بار بھی امام صاحب اجتماعی دعا منگوائے بغیر ہی اٹھ جائے تو سارے مقتدی باقاعدہ ناراض ہوجائیں گے،یہی تو التزام ہے۔ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ بینوا وتوجروا

جواب

فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعاء فرض اور لازم نہیں ہے، جو لوگ ایسا خیال کرتے ہوں وہ غلطی پر ہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسے بدعت قراردیتے ہیں وہ بھی راہِ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ بلکہ صلحائے امت کے تعامل اور فقہاء ملت کی تصریحات کےمطابق فرض نمازوں کے بعداجتماعی دعاء فرض ولازم نہیں لیکن مستحب ومستحسن ضرور ہے، عامی سائل کے لیےصحیح مسئلہ یہی ہے اور اتناہی کافی ہے۔ اگرسائل عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ سلف صالحین پر اعتماد کرتاہوتووہ مزید اطلاع کے لیے rsquorsquoالنفائس المرغوبة فی الدعاء بعدالمکتوبةlsquolsquo مؤلفہ حضرت مفتی اعظم ھند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ کا مطالعہ فرمائیں تو حقیقت حال واضح ہوجائے گی۔ باقی جہاں تک rsquorsquoالتزامlsquolsquoکا شبہ ہے یقیناً راہِ اعتدال پر رہنا چاہیے اگر کوئی ضرورت مند اجتماعی دعاء سے پہلے اٹھنا چاہے تو اسے ملامت نہیں کرنا چاہیے لیکن بالعموم اھتمام کرنے کو بدعت کہنا سخت غلطی ہے کیونکہ کسی نیک عمل پر مداومت اور اس کا مستقل اھتمام کرنا شریعت میں مطلوب ہے، بلکہ حدیث شریف میں ایسے اعمال کو قلیل ہونے کے باوجود بہترین کہا گیا ہے۔ rsquorsquoالتزام مالایلزمlsquolsquo یعنی غیرلازم کے التزام کی ممانعت سے متعلق وھم کے ازالہ کے لیے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا رسالہ rsquorsquo القول الاحکم فی تحقیق التزام مالا یلزمlsquolsquo کا مطالعہ فرمائیں جو امداد الفتاویٰ جلد 5کا حصہ ہے ، متلاشی حق کے لیے ہم اسے کافی سمجھتے ہیں ۔


فتوی نمبر : 143101200046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے