بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ ناس پڑھی تو دوسری رکعت میں کیا کرے؟


سوال

اگر فرض کی پہلی رکعت میں بھول کر سورہ الناس پڑھ لی تو اب دوسری رکعت میں کیا کرے؟ اور اس بارے میں بھی اگر جان بوجھ کر پڑھ لے تو کیا صرف سجدۂ سہو سے کام چل جائے گا یا نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے؟

جواب

 فرض نماز میں قرآنِ مجید کی ترتیب کے مطابق قرأت کرنا ضروری ہے، قصداً اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے، البتہ نماز ہو جائے گی، لہذا  فرض کی پہلی رکعت میں سورۃ الناس پڑھ  لی ہو تو دوسری رکعت میں بھی سورۃ الناس ہی پڑھے، اگر بھولے سے پڑھی تو کراہت نہیں ہوگی، لیکن اگر بھولے سے یا جان بوجھ کر پہلی رکعت میں سورۂ ناس پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں اس سے پہلے کی کوئی اور سورت  پڑھی تو ایسا کرنا  برا ہے،  لیکن سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 58):
"وإذا قرأ في الأولى ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ يقرأ في الثانية ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ أيضاً". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 457):

"وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها.

قالوا: يجب الترتيب في سور القرآن، فلو قرأ منكوساً أثم، لكن لا يلزمه سجود السهو؛ لأن ذلك من واجبات القراءة لا من واجبات الصلاة، كما ذكره في البحر في باب السهو".

وفيه أيضًا (2/ 80):

"(بترك) متعلق بيجب (واجب) مما مر في صفة الصلاة (سهواً)

 (قوله: بترك واجب) أي من واجبات الصلاة الأصلية، لا كل واجب؛ إذ لو ترك ترتيب السور لا يلزمه شيء مع كونه واجباً، بحر".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201347

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں