بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

فارقلیط نام رکھنا


سوال

فارقلیط نام رکھنا کیسا ہے نیز اس کا درست تلفظ بھی بتا دیں؟

جواب

فارقلیط  (ر پر زبر ق ساکن) عبرانی  زبان کا لفظ ہے، جس کے عربی معنی  "احمد"  کے ہیں، مذکورہ  نام رکھ  سکتے  ہیں۔

تاہم اس سے زیادہ بہتر "احمد" نام رکھنا ہوگا، کیوں کہ تحقیق کے مطابق انجیل کی اصل زبان عبرانی میں بھی رسول اللہ ﷺ کا نامِ نامی "احمد" مذکور تھا، بعد میں اس کے یونانی مترجمین نے "احمد" نام کا ترجمہ کرکے اسے "بیرکلوطوس" لکھا، اور یہی لفظ دوبارہ عبرانی میں جب لکھا اور پڑھا گیا تو "فارقلیط" بن گیا۔

معارف القرآن از مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب میں ہے:

"مولانا رحمت اللہ صاحب نے  "اظہار الحق"  میں خود توراة کے موجودہ نسخوں سے متعدد بشارتیں نقل کی ہیں، جلد دوم صفحہ 164 مطبوعہ قسطنطنیہ اور ان مضامین کا اناجیلِ موجودہ میں نہ ہونا  اس  لیے مضر نہیں کہ حسبِ  تحقیق علماء محققین انا جیل کے  نسخے محفوظ نہیں رہے، مگر تاہم جو کچھ موجودہ ہیں ان میں بھی اس قسم کا مضمون موجود ہے، چناچہ یوحنا کی انجیل مترجمہ عربی مطبوعہ لندن سن 1831 ء و سن 1833 ء کے چودہویں باب میں ہے کہ:

” تمہارے لیے میرا جانا ہی بہتر ہے؛ کیوں کہ اگر میں نہ جاؤں تو  "فارقلیط"  تمہارے پاس نہ آوے، پس اگر میں جاؤں تو اس کو تمہارے پاس بھیج دوں گا ۔“

  فارقلیط ترجمہ "احمد"  کا ہے، اہلِ کتاب کی عادت ہے کہ وہ ناموں کا بھی ترجمہ کردیتے ہیں، عیسیٰ (علیہ السلام) نے عبرانی میں "احمد"  فرمایا تھا، جب یونانی میں ترجمہ ہوا تو  "بیرکلوطوس"  لکھ دیا،  جس کے معنی ہیں "احمد" یعنی بہت سراہا گیا، بہت حمد کرنے والا، پھر جب یونانی سے عبرانی میں ترجمہ کیا تو اس کو "فارقلیط"  کردیا اور بعض عبرانی نسخوں میں اب تک نامِ مبارک "احمد" موجود ہے، دیکھو پادری پار کہرست کی یہ عبارت:

’’دباد احمدہ خل ہکوٹیم۔‘‘  (از حمایت الاسلام مطبوعہ بریلی سن 1873 ء ص 8481 ترجمہ اپالوجی گاؤ فری ہینگنس مطبوعہ لندن سن 1829 ء)

اور اس فارقلیط کی نسبت اس انجیلِ یوحنا میں یہ الفاظ ہیں: ” وہ تمہیں سب چیزیں سکھا دے گا ۔“  ( سورہ صف)

التفسير المنير في العقيدة والشريعة والمنهج میں ہے:

"وجاء في إنجيل يوحنا في الفصل الخامس عشر: قال يسوع المسيح: إن الفارقليط روح الحق الذي يرسله أبي، يعلمكم كل شيء، والفارقليط: لفظ يدل على الحمد، وهو إشارة إلى أحمد ومحمد اسمي النبي صلى الله عليه وسلّم."

( سورة الصف، ٢٨ / ١٦٩، ط: دار الفكر المعاصر - دمشق)

الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح لابن تيمية الحراني میں ہے:

"قَالُوا: وَقَالَ يُوحَنَّا الْإِنْجِيلِيُّ: قَالَ يَسُوعُ الْمَسِيحُ - فِي الْفَصْلِ الْخَامِسَ عَشَرَ مِنْ إِنْجِيلِهِ -: " إِنَّ الْفَارَقْلِيطَ رُوحُ الْحَقِّ الَّذِي يُرْسِلُهُ أَبِي، هُوَ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ ".

وَقَالَ: يُوحَنَّا - التِّلْمِيذُ - أَيْضًا - عَنِ الْمَسِيحِ، أَنَّهُ قَالَ لِتَلَامِيذِهِ: " إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونِي فَاحْفَظُوا وَصَايَايَ وَأَنَا أَطْلُبُ مِنَ الْأَبِ أَنْ يُعْطِيَكُمْ فَارَقْلِيطَ آخَرَ، يَثْبُتُ مَعَكُمْ إِلَى الْأَبَدِ، رُوحُ الْحَقِّ الَّذِي لَمْ يُطِقِ الْعَالَمُ أَنْ يَقْتُلُوهُ؛ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْرِفُوهُ، وَلَسْتُ أَدَعُكُمْ أَيْتَامًا؛ لِأَنِّي سَآتِيكُمْ عَنْ قَرِيبٍ ".

وَقَالَ يُوحَنَّا: قَالَ الْمَسِيحُ: " مَنْ يُحِبُّنِي يَحْفَظُ كَلِمَتِي، وَأَبِي يُحِبُّهُ، وَإِلَيْهِ يَأْتِي، وَعِنْدَهُ يَتَّخِذُ الْمَنْزِلَ، كَلَّمْتُكُمْ بِهَذَا؛ لِأَنِّي عِنْدَكُمْ مُقِيمٌ، وَالْفَارَقْلِيطُ رُوحُ الْحَقِّ الَّذِي يُرْسِلُهُ أَبِي، هُوَ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ، وَهُوَ يُذَكِّرُكُمْ كُلَّ مَا قُلْتُ لَكُمُ اسْتَوْدَعْتُكُمْ سَلَامِي، لَاتَقْلَقْ قُلُوبُكُمْ وَلَاتَجْزَعْ، فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ وَعَائِدٌ إِلَيْكُمْ، لَوْ كُنْتُمْ تُحِبُّونِي كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ بِمُضِيِّي إِلَى الْأَبِ، فَإِنْ أَنْتُمْ ثَبَتُّمْ فِي كَلَامِي وَثَبَتَ كَلَامِي فِيكُمْ كَانَ لَكُمْ كُلُّ مَا تُرِيدُونَ، وَبِهَذَا يُمَجَّدُ أَبِي ". وَقَالَ - أَيْضًا -: " إِذَا جَاءَ الْفَارَقْلِيطُ الَّذِي أَبِي أَرْسَلَهُ، رُوحُ الْحَقِّ الَّذِي مِنْ أَبِي، هُوَ يَشْهَدُ لِي، قُلْتُ لَكُمْ هَذَا حَتَّى إِذَا كَانَ تُؤْمِنُوا بِهِ وَلَا تَشُكُّوا فِيهِ."

(فَصْلٌ: مِنْ أَدِلَّةِ عُمُومِ رِسَالَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصْلٌ: مَا نُقِلَ مِنْ بِشَارَاتِ الْمَسِيحِ بِمُحَمَّدٍ وَالتَّعْلِيقِ الْمُفَصَّلِ عَلَيْهَا، ٥ / ٢٨٤ - ٢٨٥، ط: دار العاصمة، السعودية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200802

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں