بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

فرائض، واجبات اور سننِ مؤکدہ اور تلاوتِ قرآن سے فارغ ہونے کے بعد کونسا ذکر کرنا چاہیے؟


سوال

ایک مسلمان کو نماز،نوافل اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد بقیہ وقت میں ذکر اذکار کی کیا ترتیب کرنی چاہیے؟

جواب

ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ فرائض،واجبات،سننِ مؤکدہ،نوافل اورقرآن پاک کی تلاوت کے معمولات پورے کرنے کے بعد اپنی صحت،قوت اور فرصت کا لحاظ کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پرجتنا ہوسکے درود وسلام پڑھے،کیوں کہ کثرت سے درود و سلام پڑھناانتہائی سعادت اور برکت کا باعث ہے،نیز سننِ ترمذی کی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اپنے وظائف کا پورا وقت درود شریف میں مشغول رہنے پرسب غم دور ہوجانے اور سب گناہ معاف ہوجانے کا مژدہ بھی سنایاہے،اور یقیناً یہ فضیلت صرف انہی کے ساتھ خاص نہیں،بلکہ امت کے ہر ہر فرد کے لیے عام ہے۔

مزید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ’’ قیامت میں میرے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوگاجو درود شریف کا کثرت سے اہتمام کرنےوالا ہوگا‘‘،اسی طرح ہرایک دفعہ درود شریف پڑھنے پر دس رحمتیں نازل ہونے، دس گناہ معاف ہونےاور  دس درجات بلند ہونےکے انعامات بھی وارد ہوئے ہیں،لہذاان فضائل کے پیشِ نظر فرائض، واجبات اور سننِ مؤکدہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنی قوت اور صحت وغیرہ کے مطابق درود شریف کاخوب اہتمام کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔

سنن الترمذی  میں ہے:

"قال أبي: قلت: يا رسول الله إني أكثر الصلاة عليك فكم أجعل لك من صلاتي؟ فقال: ما شئت. قال: قلت: الربع، قال: ما شئت فإن زدت فهو خير لك، قلت: النصف، قال: ما شئت، فإن زدت فهو خير لك، قال: قلت: فالثلثين، قال: ما شئت، فإن زدت فهو خير لك، قلت: أجعل لك صلاتي كلها قال: إذا تكفى همك، ويغفر لك ذنبك۔ هذا حديث حسن."

(ص:٦٣٦،ج:٤،أبواب صفة القيامة والرقائق والورع،باب منه،ط:ألبابي،مصر)

’’ترجمہ:حضرت ابی فرماتے ہیں کہ میں  نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت درود پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کرلوں؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو ، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے ، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟ آپ نے فرمایا:تب تو یہ  درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہوگا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔‘‘

‌‌وفيه ايضا:

"عن عبد الله بن مسعود، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة."

(ص:٣٥٤،ج:٢،ابواب الوتر،‌‌باب ما جاء في فضل الصلاة ‌على ‌النبي،ط:ألبابي،مصر)

السنن الكبرى للبيهقي  میں ہے:

"عن أنس بن مالك: أنه سمعه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى علي صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات، وحط عنه بها عشر سيئات، ورفعه بها عشر درجات."

(ص:٣٠،ج:٩،كتاب عمل اليوم والليلة، ‌‌ثواب الصلاة على النبي،ط:مؤسسة الرسالة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504101206

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں