بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

فقیر متقی اور مالدار متقی میں سے افضلیت کا حامل


سوال

اگر ایک آ دمی فقیر ہے اور ایک مال دار، لیکن دونوں متقی ہیں ،ان میں سےزیادہ افضلیت  کس کو حاصل ہے؟دلیل سے بتادیں۔

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالی کے یہاں کے یہاں افضلیت اور اعزاز کا مدار صرف تقویٰ پر ہے ،جس کی زندگی میں تقوی  ٰ ہوگا،چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر،وہ بارگاہ باری تعالی میں معزز ومکرم شمار ہوگا،چناں چہ ارشاد باری تعالی ہے :

"یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكمْ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ."

(سورہ الحجرات،آیت:13)

ترجمہ:اے لوگو،ہم نے تم کو ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا ہے ،اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا ،تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو،اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو،اللہ خوب جاننے والا، پورا خبردار ہے۔(بیان القرآن)

البتہ اگرمال دار اور فقیر دونوں کے تقوی کا معیار ایک ہے ،تو صرف مالداری اور فقر کی بنیاد پر ہم کسی ایک کو افضل قرار نہیں دے سکتے ،کیوں کہ امام غزالی رحمہ اللہ اپنی کتاب احیاء علوم الدین میں لکھتے ہیں کہ مالداری اور فقر میں سے کوئی ایک بعینہ ممدوح یا مذموم نہیں ہے ،یعنی دنیاوی اسباب کی فراوانی فی ذاتہ مذموم نہیں ،بلکہ اس وجہ سے کہ یہ اللہ تعالی تک پہنچنے میں بسااوقات مانع بن جاتی ہے ،اسی طرح فقر فی ذاتہ مطلوب نہیں ہے ،لیکن چوں کہ یہ عام طور پر اللہ تک پہنچنے میں مانع نہیں ہوتا ،اس لیے یہ پسندیدہ ہے ،کتنے مالدار  ایسے ہیں کہ ان کی مالداری نے ان کو اللہ تعالی سے غافل نہیں کیا ،جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت عثمان وعبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما،اور کتنے  فقیر ایسے ہیں کہ ان کا فقر ان کو اللہ سے غافل کرنے کا سبب بن گیا ،خلاصہ یہ کہ اصل مذموم اللہ سے غافل کرنے والی چیز دنیا کی محبت ہے ،جس کا دل دنیا کی محبت سے خالی ہوتا ہے ،اس کے دل میں اللہ کی محبت  بستی ہے ،اور یہی انسان کی افضلیت کامدار ہے ۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة - وهذا حديث قتيبة - « أن فقراء المهاجرين أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: ‌ذهب ‌أهل ‌الدثور بالدرجات العلى والنعيم المقيم؟ فقال: وما ذاك؟ قالوا: يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويتصدقون ولا نتصدق، ويعتقون ولا نعتق. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفلا أعلمكم شيئا تدركون به من سبقكم، وتسبقون به من بعدكم، ولا يكون أحد أفضل منكم إلا من صنع مثل ما صنعتم؟! قالوا: بلى يا رسول الله. قال: تسبحون وتكبرون وتحمدون دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين مرة. قال أبو صالح: فرجع فقراء المهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: سمع إخواننا أهل الأموال بما فعلنا ففعلوا مثله؟! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء»."

(کتا ب المساجد ومواضع الصلاة،‌‌باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته،ج:2،ص:97،رقم الحدیث:595،ط:دار الطباعة العامرة)

ترجمہ:حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فقراء مہاجرین ( صحابہ) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اورکہنے لگے کہ مال دار وخوشحال لوگ بڑے بلند وبالا درجات لے گئے ،اور دائمی نعمتیں لے اڑے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟کہنے لگے کہ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ،ہم بھی نماز پڑھتے ہیں ،وہ بھی روزے رکھتے ہیں ہماری طرح جیسے ہم روزے رکھتے ہیں ،(لیکن ) وہ صدقات بھی دیتے ہیں ،اور ہم صدقہ نہیں دیتے (غربت کی وجہ سے) اور ( خدا کی راہ میں ) غلام کو آزاد کرتے ہیں ،جب کہ ہم نہیں کرتے ،(تو اجر وثواب میں وہ بڑھ گئے ) ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں ایسی بات نہ سکھلاؤں کہ اس کے ذریعہ سے تم سبقت لے جانے والوں (کے اجروثواب) کو حاصل کرلو ،اور اپنے بعد والوں پر سبقت لے جاؤ،اور پھر کوئی بھی تم سے زیادہ افضل نہ رہے سوائے اس شخص کے جو وہی عمل کرے جو تم کرو ،انہوں نے کہا :کیوں نہیں یا رسول اللہ !(ضرور بتلائیے) فرمایا:’’تم ہر نماز کے بعد سبحان اللہ ،اللہ اکبر،الحمد للہ ۳۳ بار پڑھو‘‘،ابو صالح کہتے ہیں کہ (کچھ دنوں بعد)فقراء مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس لوٹ کرآئے اور کہنے لگے کہ :ہمارے مال دار بھائیوں نے جب یہ کلمات (اور ان کی فضیلت سنی) تو انہوں نے بھی یہ عمل شروع کردیا (تو وہ پھر ہم پر سبقت لے گئے) ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ تو اللہ تعالی کا فضل ہے ،جسے چاہے دے‘‘۔

(تحفۃ المنعم ،کتا ب المساجد ومواضع الصلاة،‌‌باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته،ج:2،ص:627،ط:مکتبہ ایمان ویقین)

احیاءعلوم الدین میں ہے :

"بيان فضيلة الفقر على الغنى

 اعلم أن الناس قد اختلفوا في هذا فذهب الجنيد والخواص والأكثرون إلى تفضيل الفقر وقال ابن عطاء الغني الشاكر القائم بحقه أفضل من الفقير الصابر ويقال أن الجنيد دعا على ابن عطاء لمخالفته إياه في هذا فأصابته محنة وقد ذكرنا ذلك في كتاب الصبر وبينا أوجه التفاوت بين الصبر والشكر ومهدنا سبيل طلب الفضيلة في الأعمال والأحوال وأن ذلك لا يمكن إلا بتفصيل

فأما الفقر والغنى إذا أخذا مطلقا لم يسترب من قرأ الأخبار والآثار في تفضيل الفقر ولا بد فيه من تفصيل فنقول إنما يتصور الشك في مقامين {أحدهما} فقير صابر ليس بحريص على الطلب بل هو قانع أو راض بالإضافة إلى غني منفق ماله في الخيرات ليس حريصا على إمساك المال والثاني فقير حريص مع غني حريص إذ لا يخفى أن الفقير القانع أفضل من الغني الحريص الممسك وأن الغني المنفق ماله في الخيرات أفضل من الفقير الحريص أما الأول فربما يظن أن الغني أفضل من الفقير لأنهما تساويا في ضعف الحرص على المال والغني متقرب بالصدقات والخيرات والفقير عاجز عنه وهذا هو الذي ظنه ابن عطاء فيما نحسبه فأما الغني المتمتع بالمال وإن كان في مباح فلا يتصور أن يفضل على الفقير القانع وقد يشهد له ما روي في الخبر أن الفقراء شكوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم سبق الأغنياء بالخيرات والصدقات والحج والجهاد فعلمهم كلمات في التسبيح وذكر لهم أنهم ينالون بها فوق ما ناله الأغنياء فتعلم الأغنياء ذلك فكانوا يقولونه فعاد الفقراء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبروه فقال صلى الله عليه وسلم ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء۔۔۔۔۔۔

فكشف الغطاء عن هذا هو ما ذكرناه في كتاب الصبر وهو أن ما لا يراد لعينه بل يراد لغيره فينبغي أن يضاف إلى مقصوده إذ به يظهر فضله والدنيا ليست محذورة لعينها ولكن لكونها عائقة عن الوصول إلى الله تعالى ولا الفقر مطلوبا لعينه لكن لأن فيه فقد العائق عن الله تعالى وعدم الشاغل عنه وكم من غني لم يشغله الغني عن الله عز وجل مثل سليمان عليه السلام وعثمان وعبد الرحمن بن عوف رضي الله تعالى عنهما وكم من فقير شغله الفقر وصرفه عن المقصد وغاية المقصد في الدنيا هو حب الله تعالى والأنس به ولا يكون ذلك إلا بعد معرفته وسلوك سبيل المعرفة مع الشواغل غير ممكن والفقر قد يكون من الشواغل كما الغنى قد يكون من الشواغل وإنما الشاغل على التحقيق حب الدنيا إذ لا يجتمع معه حب الله تعالى في القلب والمحب للشيء مشغول به سواء كان في فراقه أو في وصاله وربما يكون شغله في الفراق أكثر وربما يكون شغله في الوصال أكثر والدنيا معشوقة الغافلين المحروم منها مشغول بطلبها والقادر عليها مشغول بحفظها والتمتع بها فإذن إن فرضت فارغين عن حب المال بحيث صار المال في حقهما كالماء استوى الفاقد والواجد إذ كل واحد غير متمتع إلا بقدر الحاجة ووجود قدر الحاجة أفضل من فقده إذ الجائع يسلك سبيل الموت لا سبيل المعرفة."

(کتاب الفقر والزھد ،ج:4،ص:201،202،ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں