بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

فقیر کا صدقہ دینا/ اس سے قرض لینے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں ایک آدمی جو دمے کا مریض ہے اور گزشتہ 3 سالوں سے بستر پر ہے، وہ بھیک مانگ کر گزارا کرتا ہے، ایک جگہ اس کی چار پائی پڑی  رہتی ہے اور آنے جانے والے اسے پیسے دیتے رہتے ہیں، اس طرح اس کے پاس اب کافی رقم جمع ہو گئی ہے،سوال یہ ہے کہ کیا اس پیسے سے کسی کو وہ صدقہ ،خیرات یا کوئی مالی امداد کسی ضرورت مند کو دینا چاہے تو کیا دے سکتا ہے، دوسرا سوال یہ کہ اس سے قرض لینا کیسا ہے مطلب جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں اب چونکہ یہ آدمی خود مالدار ہوگیا ہے اس لیے اس کے لیے زکوٰۃ اور صدقاتِ  واجبہ  (زکوٰۃ،صدقہ فطر وغیرہ )وصول کرنا درست نہیں ، اس لیے کہ صدقاتِ واجبہ مستحقین کو دینا ضروری ہے، غیر مستحق کو دینے سے صدقاتِ  واجبہ ذمے سے  ساقط نہ ہوں  گے،تاہم اگر کوئی نفلی صدقے سے اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، صدقات ِنافلہ وہ ہیں  جنہیں عرف میں خیرات کرنا کہا جاتا ہے، یعنی جو انسان محض  ثواب کے لیے  خرچ کرتا ہے،باقی مذکورہ شخص صدقہ خیرات کر سکتا ہے، مالی تعاون بھی کر سکتا ہے ۔

2۔ مذکورہ شخص سے قرض لینا درست ہے۔

قرآن مجيد ميں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"{ إِنَّمَا ‌الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِينِ وَالْعٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِي سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيْمٌ}."

                                (سورة التوبة:60)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال

(قوله في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر ولا تصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف."

(کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج:2،ص:368،ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة."

(كتاب الزكوٰۃ، فصل شرائط ركن الزكاة،ج:2،ص:47،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101898

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں