بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1444ھ 14 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

فقط عربی پڑھ کر قرآن کی تفسیر کرنے کا حکم


سوال

1- آن لائن عربی پڑھ کر قرآن کی تفسیر کرنا کیسا ہے؟

2-  اور اپنے آپ کو مولانا کہلوانا کیسا ہے؟

جواب

1- قرآن مجید کی تفسیر کرنا جس قدر اہم دینی خدمت ہے اسی قدر نازک معاملہ بھی ہے  ، اس لیے کہ قرآن کریم کے مطالب و مفاہیم اپنی عقل کے مطابق بیان نہیں کیے جاسکتے ، بلکہ رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے جو کچھ منقول ہے وہی مستند و معتبر ہے لہذا قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر سمجھنے اور اس کو دوسروں کو پڑھانے کے لیے خود ان علوم پر دسترس کے ساتھ ساتھ   دیگر وہ علوم جو اس کے لیے معاون ہیں بقدرِ ضرورت ان کا سیکھنا بھی ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس میں جہاں قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر پڑھائی جاتی ہے وہیں صرف ، نحو، بلاغت اور اصولِ تفسیر وغیرہ     جیسےعلوم بھی پڑھائے جاتے ہیں ، تاکہ قرآن کریم کے سمجھنے میں آسانی ہو۔چنانچہ مفسرقرآن کے منصب پر فائز ہونے کے لئے  فقط  عربی دان ہونا ہی نہیں بلکہ منجملہ شرائط میں سے علوم عالیہ و فنونِ آلیہ میں مہارتِ تامہ کا ہونا  بھی   ضروری ہے۔شہید اسلام حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ "تفسیر قرآن کے آداب " کے حوالے سے اپنے  ایک مضمون میں ارشاد فرماتے ہیں :

"علماء کی ایک جماعت اس کی قائل ہے کہ جو شخص ان علوم میں مہارت رکھتا ہو، جو تفسیر کے لیے  ضروری ہیں اس کے لیے قرآن کریم کی تفسیر جائز ہے اور یہ مندرجہ ذیل پندرہ علوم ہیں: ۱:۔۔۔۔۔علم لغت، ۲:۔۔۔۔۔علم صرف، ۳:۔۔۔۔۔علم نحو، ۴:۔۔۔۔۔علم اشتقاق، ۵:۔۔۔۔۔علم معانی، ۶:۔۔۔۔۔علم بیان، ۷:۔۔۔۔۔علم بدیع، ۸:۔۔۔۔۔علم قراء ات، ۹:۔۔۔۔۔علم اصول الدین، ۱۰:۔۔۔۔۔علم اصول فقہ، ۱۱:۔۔۔۔۔علم اسباب النزول، ۱۲:۔۔۔۔۔علم ناسخ ومنسوخ، ۱۳:۔۔۔۔۔علم فقہ، ۱۴:۔۔۔۔۔علم حدیث، ۱۵:۔۔۔۔۔نورِ بصیرت اور وہبی علم"۔

(ماہنامہ بینات ، مقالات و مضامین ،ص:10 تا 20،صفر المظفر ،1437ھ)

لہذا جس شخص  میں اہل تفسیرہونے کی مندرجہ بالا  شرائط موجود نہ ہوں اور وہ شخص اوصافِ لازمہ سے  بھی  متصف نہ ہو،اور  فقط عربی سے کسی قدر  واقفیت کی بنیاد پر  قرآن مجید کی تفسیر بیان کرنے کا منصب سنبھالنے لگے تو سخت اندیشہ ہے کہ وہ حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان کے فیض یافتہ تابعین تبع تابعین سلف صالحین رحمہم اللہ کی تفسیر اور آثار و اقوال کو بالائے طاق رکھ کر اپنی سمجھ اپنے مطالعہ اور اپنی فہم کو بنیاد بناکر تفسیر بالرائے  کی راہ اختیارکرے گا اور  اسی بابت حدیث شریف میں سخت وعید وارد ہوئی ہے : ((من ‌قال ‌في ‌القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار )) (سنن ترمذی ، باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برایہ ، ج:5 ، ص:199 ، رقم الحدیث:2950 ، ط:مکتبہ مصطفی الحلبی) حضرات صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باوجودیکہ عام  اہل عرب تھے اور علوم وفنون میں بہت سے حضرات مہارت بھی رکھتے  تھے مگر بایں ہمہ کمالات قرآن کریم کی تفسیر و مطالب میں حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیم وتبیین کے محتاج تھے، خود قرآن کریم میں ارشاد  باری تعالی ہے: ((لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ )) ترجمہ : حقیقت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں پر احسان کیا جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگون کو اللہ تعالی کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ لوگ قبل سے صریح غلطی میں تھے ۔(بیان القرآن)

(سورۂ آل عمران ، آیت نمبر :164)

الغرض ان جیسی آیاتِ مبارکہ اور احادیث شریف کے پیش نظر عام لوگوں کو  تفسیر کرنے   کی ہرگز اجازت نہیں۔

علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ  "الاتقان فی علوم القرآن " میں فرماتے ہیں :

"ومنهم من قال: يجوز تفسيره لمن كان جامعا للعلوم التي يحتاج المفسر إليها وهي خمسة عشر علما: أحدها: اللغة ... والثاني: النحو ... والثالث: التصريف ...  والرابع: الاشتقاق ... والخامس والسادس والسابع: المعاني والبيان والبديع ... والثامن: علم القراءات ... والتاسع: أصول الدين ... والعاشر: أصول الفقه ... والحادي عشر: أسباب النزول والقصص ... والثاني عشر: الناسخ والمنسوخ ... والثالث عشر: الفقه ... والرابع عشر: الأحاديث المبينة لتفسير المجمل والمبهم ... والخامس عشر: علم الموهبة..."

(النوع الثامن و السبعون في معرفة شروط المفسر و آدابه ، ج:2 ، ص: 180/181 ، ط: دارالندوة الجديدة)

مرقاۃ المفاتیح   میں ہے:

"وعلم التفسير يؤخذ من أفواه الرجال كأسباب النزول والناسخ والمنسوخ، ومن أقوال الأئمة وتأويلاتهم بالمقاييس العربية كالحقيقة والمجاز والمجمل والمفصل والعام والخاص، ثم يتكلم على حسب ما يقتضيه أصول الدين، فيئول القسم المحتاج إلى التأويل على وجه يشهد بصحته ظاهر التنزيل، فمن لم يستجمع هذه الشرائط كان قوله مهجورا، وحسبه من الزاجر أنه مخطئ عند الإصابة".

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، كتاب العلم ، بيان تفسير القرآن بالراي ، ج:1 ، ص:293 ، ط:مكتبه امداديه ،ملتان)

2-واضح رہے کہ" مولیٰ" فصیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال قرآن مجید، احادیث مبارکہ اورکلام عرب میں موجودہے، علماء عربیت نے اس کے  کئی  معانی بیان کیے ہیں، عام لغات میں بھی اس کے پندرہ سترہ معانی بآسانی دستیاب ہیں۔ اسی لفظ کے ساتھ "نا" ضمیر بطورمضاف الیہ استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کے سب سے پہلے استعمال کی بات ہے تو خود اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کرکے اپنے، جبریل امین اور  نیک مسلمانوں کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایاہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰٮهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَۚ وَالْمَلٰۤٮِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ "، ترجمہ :اے (پیغمبر کی) دونوں بیبیو ! اگر تم اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو تمہارے دل مائل ہورہے ہیں اور اگر (اسی طرح )پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں  کاروائیاں کرتی رہیں تو (یاد رکھو )پیغمبر کا رفیق اللہ اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں  اور (ان کے علاوہ )فرشتے آپ کے مددگار ہیں ۔(بیان القرآن) ، یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہل ایمان(یعنی نیکوکاروں)کے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایاہے۔ جس سے معلوم ہواکہ جبریل امین اور تمام نیکو کار اہل ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ ایزدی سے عطاہواہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: " يا ‌زيد أنت أخونا ومولانا" (السنن الکبری للنسائی،کتاب الخصائص7/ 433،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)۔  نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی فرمایا:"‌من ‌كنت مولاه فعلي مولاه."(سنن ابن ماجہ ،باب فضل اصحاب رسول اللہ ﷺ، 1 /88،ط:دار الرسالۃ )۔اسی طرح یہ لفظ اسناد احادیث میں بھی بکثرت استعمال ہوا ہے  ، جیسے:"عن عكرمة ‌مولى ‌ابن ‌عباس"..."عن كريب ‌مولى ‌ابن ‌عباس"۔

قرآن پاک اور احادیث کے اس استعمال سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ یہ عربی لفظ مختلف معانی كے لئے مستعمل ہوا ہے ۔ نيزمختلف مواقع پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نیک اور خاص اہل ایمان کے لیے یہ لفظ بطور اعزاز کے استعمال کیاجاتا ہے ۔ اسی استعمال اوربرکت کی نسبت سے قدیم زمانہ سے اہل حق علماء نے اصحاب علم کے لیے یہ لفظ بطور احترام منتخب کیاہے۔ اور اب برصغير ميں مولانا کالفظ خاص اصطلاح ہوگئی ہے ، ہردرس نظامی سے فارغ التحصیل کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔لہذا کسی عالم دین کے احتراماً لفظ "مولانا"کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ،ہاں علم و عمل سے ناآشنا شخص کے لیے اس لفظ کا استعمال بوجہ دھوکہ اور غلط فہمی کے درست نہیں ۔حضرت مولانا اشر ف علی تھانوی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: ’’مولوی اسی کو کہتے ہیں جو مولیٰ والا ہو، یعنی علم دین بھی رکھتا ہو اور متقی بھی ہو، خوفِ خدا وغیرہ اخلاقِ حمیدہ رکھتا ہو۔‘‘

  ( التبلیغ، ص: ۱۳۳، جلد اول بحوالہ تحفۃ العلماء از مولانا محمد زید، جلد اول، ص:۵۲، البرکۃ کراچی)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144308101216

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں