بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

فلکی حسابات کی بنیاد پر رویت ہلال کی شہادت کی نفی کرنا


سوال

فقہ حنفی کے مطابق فلکی حسابات کی بنیاد پر رویت ہلال کی شھادت کی نفی کر نا جائز ہے ؟

الف - اگر فلکی حسابات کے ذریعے معلوم ہو کہ ابھی چاند کی ولادت ہی نہیں ہوئی ہے اور کوئی شخص یا جم غفیر رویت ہلال کی شہادت کر دے تو کیا اس بنا پر شہادت کو رد کرنا جائز ہے ؟ کیا ولاوت قمر کے فلکی حسابات قطعی ہیں؟

ب - اگر ماہرین فلکیات یہ کہے کہ ولادت قمر کے اتنے گھنٹوں تک چاند قابل رویت نہیں ہو تا اور ان کے ذکر کر دہ گھنٹوں سے پہلے کوئی شخص یا  جمِ غفیر رویت ہلال کی شہادت کر دے تو کیا اس بنا پر شہادت کو رد کرنا جائز ہے ؟ ولادت قمر کے بعد رویت ممکن نہ ہونے کا پوری دنیا کے لیے کوئی قطعی فلکی قاعدہ ہے ؟ اور یہ فلکی حسابات کیا قطعی ہیں یا ظنی؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی احکامات کا  مدار چاند کے افق پر موجود ہونے پر نہیں ہے، اس لیے کہ چاند اپنے مستقر میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے ،  کسی دن اور کسیوقت بھی معدوم نہیں ہوتا بلکہ شرعی احکامات  کا مدار  چاند  کے  عام آنکھوں سے دیکھے جانے پر ہے، نکاح ، طلاق، عدت وغیرہ کے مسائل ہوں یا ماہ رمضان کی ابتداء و انتہاء ہو، یا عید  منانے کا مسئلہ ہو، تمام احکامات کا مدار چاند کی رؤیت پر ہے نہ کہ چاند افق میں موجود ہونے پر  جیساکہ متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے، نیز اسلامی عبادات مثلا روزہ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ کا تعلق قمری مہینہ سے ہے، اور خصوصا رمضان مبارک کی تو ابتداء ہی چاند دیکھنے پر موقوف ہے، اور اس کے لیے رسول اللہ نے ایک آسان اور عام فہم طریقہ بتادیا کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھنے پر افطار کرو، تاکہ ایک عام فہم،سادہ لوح مسلمان کے لیے بھی فرائض کی ادائیگی آسان ہو، فلكي حسابات پر اس كا مدار  نہیں رکھا، جیساکہمشكاة المصابيح  میں ہے:

"عن عمر قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له» .وفي رواية قال: «الشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.(بخاری ومسلم)"

(1/174، باب رویة الهلال، الفصل الاول، ط: قدیمی)

ترجمه:

"حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”روزہ  اس وقت تک نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو،اسی طرح   عید کے لیے افطار اس وقت تک نہ کرو،جب تک کہ عید کا چاند نہ دیکھ لو،  اگر   چاند تم پر مستور ہوجائے  تو حساب لگالو (یعنی حساب سے تیس دن پورے کرلو)۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ:آپ ﷺ نے فرمایا:  مہینہ کبھی انتیس رات کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو  روزہ نہ رکھو اور اگر چاند تم پر مستور ہوجائے تو تو تیس دن پورے کرو (یعنی شعبان کا مہینہ  تیس دن کا سمجھو)۔ (بخاری ومسلم)"

مذکورہ تفصیل سے چند باتیں معلوم ہوئی : (1)   قمری مہینہ انتیس یا تیس دن ہی کا ہوسکتا ہے،  اس سے کم یا زیادہ کا نہیں ہوسکتا۔ (2)  روزہ اور عید کا مدار چاند کو دیکھنے پر ہے، چاند کے موجود ہونے پر نہیں ہے۔(3)چاند کی رؤیت کا مدار فلکی حسابات پر نہیں ہے۔

نیز فلکی حسابات  اور آلات کے نتائج یقینی نہیں ہیں،  بلکہ تخمینی  اور ظنّی ہیں، یہی وجہ ہے  کہ ماہرین فن کا اس میں اختلاف بھی ہوتا ہے، اور کبھی ایک تحقیق کو بعد میں آنے والے دوسری تحقیق  رد کردیتی ہے، اگر سائنس کی ترقی کی وجہ سے بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آلات میں غلطی کا احتمال نہیں ہے تو  ان  آلات  کو واقعات پر منطبق کرنا تو بہرحال انسانی عمل اور نظر ہے،  اس میں فرق ممکن   ہے۔ جیساکہ چوتھی صدی ہجری کے مشہور اسلامی فلاسفر اور ماہر فلکیات”ابو ریحان البیرونی“ نے  آلات رصدیہ کے نتائج کے غیر یقینی ہونے کو  ماہرین کا اتفاقی نظریہ بتلایا ہے:

"ان علماء الهيئة مجمعون علي انّ المقادير المفروضة في اواخر اعمال رؤية الهلال هي ابعاد لم يوقف عليها الا بالتجربة وللمناظر احوال هندسية يتفاوت لإجلها المحسوس بالبصر في العظم والصغر وفي ما اذا تأمّلها متأمّل منصف لم يستطع بتّ الحُكم على وجوب رؤية الهلال  اَو امتناعها." 

(آثار الباقیة عن القرون الخالية، ص: 198، طبع:1923، ليزك، بحواله جواهر الفقه)

ترجمه:

”علماء ریاضی وہیئت اس پر متفق ہیں کہ رویت ہلال کے عمل میں آنے کے لیے  جو مقداریں فرض کی جاتی ہیں وہ سب ایسی ہیں جن کو صرف تجربہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے، اور مناظر کے احوال مختلف ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے آنکھوں سے نظر آنے والی چیز کے سائز  میں چھوٹے بڑے ہونے کا فرق ہوسکتا ہے، اور فضائی و فلکی حالات ایسے ہیں کہ ان میں جو بھی ذرا  غور کرے گا تو رویت ہلال کے  ہونے یا نہ ہونے کا قطعی  فیصلہ ہر گز نہیں کرسکے گا۔“

نيز كشف الظنون ميں زیچ   شمس الدين  محمد بن علي خواجی وابكنوی   کے بارے میں منقول هے کہ  انہوں نے چالیس سال تک فلکیات پر تحقیق کی ، اور  ان کا یہ چالیس سالہ تجربہ نقل کیا ہے کہ  فلکیاتی حسابات   تخمینی (اندازے اور تجربات کی بنیاد پر ) ہوتے ہیں،اور یہ اندازے مختلف ہوتے رہتے ہیں،  ان کے بارے میں کوئی صحیح اور یقینی پیش گوئی  نہیں کی جاسکتی کہ جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ملاحظہ ہو:

"زيج: شمس الدين  محمد بن علي خواجه الوابكنوي. فارسي. مختصر. ذكر فيه: أنه أرصد أربعين سنة.  واجتهد بآلات مصححة. وذكر أن: ضبط كميات الحركات السماوية كما ينبغي معتذر، لأن درجة من دوائر الفلك، أعظم بكثير من دوائر الأرض، فضلا بالنسبة إلى الآلة.حتى قالوا: ليس للأرض قدر محسوس، بالنسبة إلى فلك المريخ، فلا سبيل إلى التحقيق، سوى التخمين والتقريب.ولذلك كانت الأزياج والأرصاد مختلفة."

(كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون (2 / 969) باب الزا ي المعجمة، ط:مكتبة المثنى - بغداد)

خلاصہ یہ ہے کہ   چاند کی رویت کا مدار ، چاند دیکھنا ہے،  اگر  مہینہ انتیس کا ہوجانے کے بعد چاند کی دیکھنے کی شہادت،  شرعی شرائط وضوابط کے مطابق آجائے تو اسے صرف تخمینی حسابات کی بناء  پر رد نہیں کیا جائے گا، تاہم  شہادت قبول کرنے کا اختیار قاضی کو ہے،اور قاضی مختلف جہات سے گواہی کو جانچ کر فیصلہ کرتا ہے  اور مرکزیرؤیت ہلال کمیٹی  قاضیشرعی کی  حیثیت    رکھتیہے،  لہذا شہادت موصول ہونے پر اگر وہ اعلان کردے تو ملک میں جن لوگوں تک یہ اعلان   معتبر ذرائع سے پہنچ جائے ، ان پر روزہ رکھنا یا عید کرنا لازم ہوگا، اگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرے  تو اس کے فیصلہ پر عمل لازم ہوگا، البتہ جس شخص نے رمضان المبارک کا چاند خود دیکھا تو اس پر اپنی ذات کے لحاظ سے اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا، لیکن  چوں کہ اس کو ولایت حاصل نہیں ہے اس لیے  اس کی گواہی  دوسرے کے حق میں  معتبر نہیں ہوگی جب تک قاضی اس کی گواہی پر فیصلہ کرکے اس کا اعلان نہ کردے۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"الفتاوی النسفیة:سئل عن قضاء القاضی برؤیةھلال شھر رمضان بشھادۃشاھدین عند الاشتباہفی مصر،ھل یجوز لإھل مصر آخر العمل بحکمھم؟ فقال: لا، ولا یکون مصر آخر تبعا لھذا المصر، انما سکانھذا المصر وقراھا یکون تبعا له."

(3/365، کتاب الصوم، الفصل :2، رؤیة الهلال، ط: زکریا، دیوبند)

حضرت مولانا مفتی محمود ؒ            ”زبدۃ المقال فی رؤیۃ الھلال“  میں تحریر فرماتے میں ہے:

"اذا ثبت الصوم او الفطر عند حاکم  تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء او عند واحد او جماعة من العلماء الثقات ولاّھم رئیس المملکة أمر رؤیة الھلال،وحکموا بالصوم او الفطر ونشروا حکمھم ھذا فی رادیو، یلزم علی من سمعھا من المسلمین العمل به فی حدود ولایتھم، واما فیما وراء حدود ولایتھم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلك الولایة بشھادۃ شاھدین علی الرؤیة او علی الشھادۃ او علی حکم الحاکم او جاء الخبر مستفیضا؛ لان حکم الحاکم نافذ فی ولایته دون ما وراءھا."

 

(زبدۃ المقال فی رؤیة الھلال،بحواله خیر الفتاوی، 4/118، ط؛ مکتبة الخیر ملتان)

مزید تفصیل کے لیے جواہر الفقہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کا رسالہ  "احكام الادلّة في احكام الاهلّة "(رویت ہلال) کا مطالعہ مفید رہے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100136

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں