بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فلاں لڑکی کے علاوہ جس بھی نکاح ہوا اس کو طلاق کہنے کا حکم


سوال

ميرے ایک دوست کہنا ہے کہ میں ابنے دوست کے ساتھ ایک بیان سن رہا تها، اس ميں ايک شخص نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ : اگر اس فلاں لڑکی کی سوا جس سے بھی میرا نکاح هوا اس کو طلاق هو، يه سن کر مجھے ابنے باتیں یاد آگئیں اور میں بھت بریشان ھوگیا اور سوچا تو یاد آیا کہ میں نے یوں کہا تھا کہ: اگر اس لڑکی کے سوا کسی سے بھی میرا نکاح هوا تو اس بر طلاق کو، بهر کھا: طلاق هو، پهر کھا: تین دفعہ طلاق ہو، بار بار طلاق ہو، يه ايک ہی سانس میں کہا، بھر میں نے مفتی صاحب کو فون کیا اور کھا کہ میری زبان سے یہ جملے نکلے ہیں: اگر اس لڑکی کی سوا کسی سے بھی ميرا نکاح هوا تو اس کو تین طلاق هو، بار بار طلاق هو، انہوں نے کھا: آپ اسي لڑکی سے نکاح کریں، اس کے علاوه کوئی راسته نهیں، ميں ان کو یہ کہنا بھول گیا تھا کہ میں نے بہلے ایک طلاق کھا بھر تین، میرا خیال تھا کہ جب ایک طلاق واقع هوگی تو تین طلاق بهي واقع هوجائے گی، اس سوچ میں تین ماه گزر گئے، بھر مجھے یه ويب سايٹ مل گئی، اس میی سوالات ديکھے تو ایک سوال یہ بهي تها: ميرا جتنی عورتوں سے نکاح ھوا ان کو طلاق هو، اور ایک سوال یہ بهي تها کہ: جس جس سے بھی میرا نکاح هوا اس کو طلاق هو، یہ سوالات دیکھ کربوسوسہ بڑھ گیا، سوچ سوچ میں تین سال گزر گئے، لیکن اب تک کوئی فیصله نہیں کر سکا کہ کونسا جمله کہاتھا۔مفتی صاحب اب ميری يہ کیفیت ہے کہ کیا کروں اور کیا نھیں؟ ایسی کیفیت میں کیا کرنا چاہئیے؟ مھربانی کیجئے اور مجھے اس مشکل سے نکالئے ،تا کہ ان وسوسوں سے نکل سکوں،

جواب

مذکورہ صورت میں آپ کے دوست نے جس لڑکی کا استثنا کیا ہے ، اس کے علاوہ کسی بھی لڑکی سے از خود نکاح کیا تو طلاق واقع ہو جائے گی، البتہ اگر کوئی اور شخص آپ کے دوست کی اجازت یا حکم کے بغیر اس کا کسی لڑکی سے نکاح کرادے اور پھر اس کو اطلاع کرے اور وہ زبان سے کچھ کہے بغیر مہر ودیگر ازدواجی حقوق ادا کر کے عملی طورپرضامندی ظاہر کر دے تو اس صورت میں نکاح ہو جائے گا اور طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔اگر خود بھی نکاح کرلیا تو صرف ایک طلاق ہوگی اور اس کے بعد دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا اور دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔


فتوی نمبر : 143512200022

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے