بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

فجر کے وقت میں نوافل یا قضا پڑھنے کا حکم


سوال

کیا اذانِ فجراور نمازِفجر کے درمیانی وقت میں نوافل یا قضا نماز ادا کرسکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ صبح  صادق  سے لے کر اشراق کا وقت ہوجانے تک فجر کی سنتوں کے علاوہ (گھر میں یا مسجد میں) دیگر نوافل اداکرنا  شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ کسی فرض نماز کی قضا  پڑھنا جائز ہے، تاہم وہ نماز ایسی جگہ پڑھی جائے جہاں لوگ نہ دیکھیں، تاکہ دیکھنے والے اس قضا  نماز کو نفل نماز نہ سمجھیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكذا) الحكم من كراهة نفل وواجب لغيره لا فرض وواجب لعينه (بعد طلوع فجر سوى سنته) لشغل الوقت به.

(قوله: لشغل الوقت به) أي بالفجر أي بصلاته، ففي العبارة استخدام ط أي لأن المراد بالفجر الزمن لا الصلاة، والكراهة هنا تحريمية أيضًا كما صرح به في الحلية ولذا عبر في الخانية والخلاصة بعدم الجواز، والمراد عدم الحل لا عدم الصحة كما لايخفى."

(كتاب الصلوة، ج:1، ص:374/75، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209200537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں