بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فجر کے بعد سورۃ یٰسن پڑھنا


سوال

فجر کے بعد یٰسین شریف کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں صبح کے وقت سورہ یٰس کی تلاوت کرنا فضلیت اور  برکت کا باعث ہے ، لہذا جوشخص صبح  سورہ  یس  کی تلاوت کرتا ہے تو  اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، اسی طرح حضرت  ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ جوشخص  صبح کے وقت سورہ  یٰس پڑھتا ہے،  اس کو  شام تک خوشی دی جاتی ہے اورجو  رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھتا ہے تو وہ  خوشی صبح ہونے تک رہتی ہے ۔

 سنن الدارمي ميں  ہے: 

"عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ،قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ :« مَنْ قَرَأَ یٰس فِي صَدْرِالنَّهَارِ، قُضِیَتْ حَوَائجُهُ»".  

وفیہ ایضا:

"قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «‌مَنْ ‌قَرَأَ ‌يس حِينَ يُصْبِحُ، أُعْطِيَ يُسْرَ يَوْمِهِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَرَأَهَا فِي صَدْرِ لَيْلِهِ، أُعْطِيَ يُسْرَ لَيْلَتِهِ حَتَّى يُصْبِحَ»".  

(باب فی فضل یس،2151/2150/4،دار المغني)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144501101468

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں