بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز سے پہلے 100 مرتبہ "سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" پڑھنا


سوال

ایک  حدیث  کے متعلق بتائیں کہ ایک صحابی حضور علیہ الصلاة ولسلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور تنگ دستی  کی  شکایت  کی،   جس پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  . سبحان اللہ وبحمدہ  پڑھا کرو،  دنیا تمہارے پاس ذلیل ہوکر آئے گی ،  کیا یہ حدیث درست ہے ؟اگر ہاں تو حوالہ بتائیں!

جواب

موطا امام مالک میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دنیا کی کمی کی شکایت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم فرشتوں اور مخلوقات کی اس تسبیح سے کہاں غافل ہو جس کی برکت سے انہیں رزق دیا جاتا ہے؟ حضرت ابنِ عمرؓ   فرماتے ہیں کہ میں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر  نبی کریم ﷺ  سے  اس تسبیح کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:  صبح صادق سے فجر کی نماز تک سو  (100) مرتبہ "سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" پڑھنے  سے دنیا تمہارے پاس ذلیل ہوکر آئے گی،  اور ہر تسبیح کے بدلے اللہ ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت تک تسبیح کرتا رہے گا۔

اس حدیث کی سند پر بعض محدثین نے اگرچہ کلام کیا ہے، تاہم دیگر صحیح سند کی روایات میں یہ مضمون بھی ہے کہ اس تسبیح کی برکت سے مخلوقات کو اللہ رزق دیتے ہیں جس سے مذکورہ حدیث کے معنی و مضمون کی تائید ہوتی ہے لہذا مذکورہ عمل کرنا درست ہے۔

موطأ مالك ت الأعظمي (1 / 147):

عبد الله بن نافع الجمحي المدني، قراب[حدثنا] علي بن محمد بن أحمد بن يعقوب. عن محمد بن  عبد الله بن نعيم النيسابوري، أخبرنا محمد بن أحمد النضرابادي، حدثنا العباس بن حمزة، حدثنا أحمد بن خالد الشيباني، حدثنا عبد الله بن نافع الجمحي المدني، عن مالك بن أنس، عن نافع، عن ابن عمر، قال شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وأتاه رجل، فقال يا رسول الله قلت ذات يدي.

فقال أين أنت عن صلاة الملائكة، وتسبيح الخلائق التي بها يرزقون؟ قال ابن عمر فاغتنمت، فقلت يا رسول الله ما هو؟

فقال يا ابن عمر من حين يطلع الصبح إلى حين يصلي الفجر، سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم استغفر الله، مائة مرة تأتيك الدنيا صاغرة راغمة، ويخلق من كل [تسبيح] ملك يسبح إلى يوم القيامة.

تخريج أحاديث الإحياء = المغني عن حمل الأسفار (1 / 354):

" أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال تولت عني الدنيا وقلت ذات يدي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فأين أنت من صلاة الملائكة وتسبيح الخلائق وبها يرزقون؟ قال فقلت وماذا يا رسول الله قال: قل سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم أستغفر الله مائة مرة ما بين طلوع الفجر إلى أن تصلي الصبح تأتيك الدنيا راغمة صاغرة ويخلق الله عز وجل من كل كلمة ملكا يسبح الله تعالى إلى يوم القيامة لك ثوابه «

أخرجه المستغفري في الدعوات من حديث ابن عمر وقال: غريب من حديث مالك ولا أعرف له أصلا في حديث مالك ولأحمد من حديث عبد الله بن عمرو» أن نوحا قال لابنه آمرك بلا إله إلا الله ... الحديث «ثم قال» وسبحان الله وبحمده فإنها صلاة كل شيء وبها يرزق الخلق"، إسناده صحيح."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں