بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

فجر کی اذان کے بعد کھا پی لیا تو باقی دن کا کیا حکم ہے؟


سوال

فجر کی اذان کے بعد کھانے پینے سے روزہ ہوجائے گا ؟ اگر نہیں ہوگا تو کیا اس دن روزہ توڑسکتاہے یعنی کھاسکتاہے یا روزہ رکھے ؟

جواب

فجر کی اذان اگر اپنے وقت پر یعنی فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد ہوئی ہو  اور سحری کا وقت باقی سمجھتے ہوئے  اذان کے بعد کچھ کھا پی  لیا تو  روزہ نہیں ہوگا  اور  اس دن کے روزے  کی قضا  لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، تاہم ایسے شخص پر واجب ہے کہ بقیہ دن بھی روزہ داروں کی طرح کچھ کھانے پینے سے اپنے آپ کو روکے رکھے۔

الدر المختار میں ہے:

"(أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلا و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) لف ونشر ... (قضى) في الصور كلها (فقط)... (والأخيران يمسكان بقية يومهما وجوبا على الأصح) لأن الفطر قبيح وترك القبيح شرعا واجب".

وفي الرد:

"(قوله: أو تسحر إلخ) أي يجب عليه القضاء دون الكفارة؛ لأن الجناية قاصرة وهي جناية عدم التثبت لا جناية الإفطار؛ لأنه لم يفسده، ولهذا صرحوا بعدم الإثم عليه...

(قوله: ليلا) ليس بقيد؛ لأنه لو ظن الطلوع وأكل مع ذلك ثم تبين صحة ظنه، فعليه القضاء ولا كفارة؛ لأنه بنى الأمر على الأصل فلم تكمل الجناية فلو قال ظنه ليلا أو نهارا لكان أولى وليس له أن يأكل؛ لأن غلبة الظن كاليقين بحر. وأجاب في النهر بأنه قيد بالليل ليطابق قوله أو تسحر. اهـ....

(قوله: والأخيران) أي من تسحر أو أفطر يظن الوقت ليلا إلخ...

(قوله: على الأصح) وقيل يستحب فتح وأجمعوا على أنه لا يجب على الحائض والنفساء والمريض والمسافر وعلى لزومه لمن أفطر خطأ أو عمدا أو يوم الشك ثم تبين أنه رمضان ذكره قاضي خان شرنبلالية".

(‌‌كتاب الصوم‌‌، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، 2/ 407 -405، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں