بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز کے بعد اشراق سے پہلے قضاء نماز پڑھنے کا حکم


سوال

فجر کی نماز کے  فورابعد قضا نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 فجر کی نماز کے فوراًبعدسورج طلوع ہونے سے پہلے قضا نماز پڑھنا جائز ہے، البتہ اس وقت نوافل پڑھنا منع ہے اور فجر کے بعد اشراق کے وقت سے پہلے قضا کرنی ہو تو بہتر ہے کہ ایسی جگہ ادا کی جائے جہاں لوگ نہ دیکھیں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(بعد صلاة فجر و) صلاة (عصر) ولو المجموعة بعرفة (لا) يكره (قضاء فائتة و) لو وتراً أو (سجدة تلاوة وصلاة جنازة".

(كتاب الصلوة، ج: 1، ص: 375، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان، منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر. كذا في النهاية والكفاية يكره فيه التطوع بأكثر من سنة الفجر"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101874

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں