بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

فجر کی سنت فرض نماز کے فورًا بعد پڑھنے کا حکم


سوال

فجر کی فرض نمازکے بعدسنتوں کی قضاء کرناجائز ہے یانہیں ؟ جب کہ ہم نےکچھ علماء سے سناہے کہ وہ فرماتےہیں بعدنمازِفرض سنتوں کی قضاء کرناجائز ہے۔

جواب

سنتوں کی مستقل طور پر قضا نہیں ہے، البتہ فجر کی سنتوں کی تاکید کی وجہ سے یہ حکم ہے کہ جس دن فجر کی سنتیں تنہا یا فجر کی فرض نماز  کے ساتھ رہ جائیں تو اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد سے لے کر اسی دن زوال کے وقت تک فجر کی سنتیں ادا کرلینی چاہئے،  احادیث  مبارکہ میں فجر کی  سنتوں کی قضا کا وقت طلوعِ شمس کے بعد ذکر کیا گیاہے، فجر کی نماز کے بعد طلوعِ شمس سے پہلے ہر قسم کی نفل نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی قرار دیا گیا ہےلہٰذا صورتِ مسئولہ میں فجر کی فرض نماز کے بعد اشراق کا وقت ہونے سے پہلے فجر کی سنتیں ادا کرنا درست نہیں ہے، اشراق کا وقت داخل ہونے کے بعد سے لے کر  اسی دن زوال تک کے درمیانی وقت میں ادا کرنادرست ہے۔ 

وفي الجامع الصحيح سنن الترمذي :

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لم يصل ركعتي الفجر فليصلهما بعد ما تطلع الشمس."

( سنن الترمذی ،‌‌باب ما جاء في إعادتهما بعد طلوع الشمس 1/ 265ط:دار الفكر)

وفي صحيح البخاري:

"عن ابن عباس قال شهد عندي رجال مرضيون وأرضاهم عندي عمر أن النبي نهى عن الصلاة بعد الصبح حتى تشرق الشمس وبعد العصر حتى تغرب."

(صحيح البخاري ،باب: الصلاة بعد الفجر حتى ترتفع الشمس 1/ 211ط: دارابن كثير)

 

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولايقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل. 

(قوله: ولايقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لايقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر؛ فيقضيها تبعاً لقضائه لو قبل الزوال، وما إذا فاتت وحدها فلاتقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع؛ لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال، كما في الدرر. قيل: هذا قريب من الاتفاق؛ لأن قوله: "أحب إلي" دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لايقضي، وإن قضى فلا بأس به، كذا في الخبازية. ومنهم من حقق الخلاف وقال: الخلاف في أنه لو قضى كان نفلاً مبتدأً أو سنةً، كذا في العناية يعني نفلاً عندهما، سنةً عنده، كما ذكره في الكافي إسماعيل".

(الدرالمختار مع رد المحتار ،كتاب الصلاه ، ‌‌باب إدراك الفريضة 2/ 57ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں