بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

فجر کی اذان کے بعد نماز سے پہلے وتر کی قضا کرنا


سوال

تہجد کے بعد اگر وقت کم ہو اور فجر  کی اذان  ہو نے لگے تو فجر کی نماز سے پہلے وتر پڑ ھ سکتے ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  فجرکی اذان کے بعد  فجر کی نماز سے پہلے وتر کی قضا کر سکتے  ہیں  ۔

’’إن الوتر أقوى من سائر السنن، حتی أنها تقضي إذا انفردت بالفوات ألاترى! أن لا وتر بعد الصبح، المراد النهي عن تأخیرها لا في قضائها، و كذلك تقضی بعد صلاۃ الفجر قبل طلوع الشمس.‘‘ 

(المبسوط للسرخسي: ۱/ ۱۵۵کتاب الصلاۃ، باب مواقیت الصلاۃ، دارالکتب العلمیة، بیروت)

’’الوتر یقضى بعد طلوع الفجر بالإجماع بخلاف سائر السنن.‘‘

(البحر الرائق: ۱/ ۴۳۷ ، کتاب الصلاۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200715

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں