بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز کے دوران سورج طلوع ہوجانا


سوال

 فجر کی نماز کس وقت تک ادا کی جاسکتی ہے؟ ایک مفتی صاحب کے بیان میں سنا ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی نماز اتنی لمبی پڑھاتے تھے کہ سورج نکل آتا تھا؛ لہذا ہم کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جانے اور ان کا رب جانے، لہذا وہ صاحب فرماتے ہیں کہ عوام کو نماز فجر سے منع نہیں کرنا چاہیے، چاہے سورج نکل رہا ہو اور مکروہ وقت ہی کیوں نہ ہو جائے۔  کیا یہ صحیح ہے؟ اگر اس طرح نمازیں پڑھیں ہو تو ان کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ تین اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت صحیح احادیث میں وارد ہے، ان اوقات میں طلوعِ آفتاب کا وقت بھی داخل ہے، ان صحیح احادیث کی روشنی میں حنفیہ کے نزدیک فجر کی نماز طلوعِ آفتاب کے وقت ادا کرنا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے، اور کوئی شخص طلوعِ آفتاب سے پہلے نماز شروع کرے اور درمیان میں سورج طلوع ہوجائے تو حنفیہ کے اصول کے مطابق (جیساکہ متقدمین سے منقول ہے) نماز  باطل ہوجائے گی۔

البتہ متاخرین احناف میں سے قریب زمانے کے بعض فقہاءِ کرام (جن میں علامہ شامی رحمہ اللہ اور سابق مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ بھی شامل ہیں) نے عوام الناس کے دینی مسائل سے جہل اور ناواقفیت کی وجہ سے اس وقت نماز ادا کرنے والے عامی شخص کو نماز پڑھنے سے روکنے سے منع کیا ہے کہ مبادا مسئلہ سمجھنے کے بجائے وہ نماز ہی ترک نہ کردے، اس لیے اگر کوئی عامی شخص ایسے وقت نماز شروع کردے کہ فجر کا وقت ختم ہونے والا ہو، اور غالب یہ ہو کہ نماز کے دوران فجر کا وقت ختم ہوجائے گا، تو اسے روکنا نہیں چاہیے، نرمی کے ساتھ معقول انداز میں مسئلہ سمجھادینا چاہیے، اگر وہ سمجھ جائے تو بہتر ورنہ اسے نماز کے اعادے کا نہ کہا جائے، کیوں کہ بہرحال بعض ائمہ مجتہدین کے مطابق اس کی نماز ادا ہوجاتی ہے، البتہ اسے عادت بنانے کی اجازت نہیں ہے، نہ ہی اس کی ترغیب دی جائے گی، یہی راہِ اعتدال اور حکمت کا تقاضا بھی ہے؛ لہٰذا مساجد میں نماز باجماعت کا اہتمام ایسے وقت میں کیا جائے کہ اگر بالفرض کسی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے وضو کرکے سنت کے مطابق سنتیں اور فرض نماز ادا کی جاسکے، نیز مسئلہ بھی یہی بتایا جائے کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کی جائے، اگر نماز کے دوران سورج طلوع ہوگیا تو نماز باطل ہوجائے گی، کیوں کہ صحیح احادیث میں اس وقت نماز کی ممانعت منقول ہے اور یہ روایات فقہاءِ احناف کے ہاں راجح ہیں، اور ایسی نماز کا اعادہ کیا جائے، اور اگر نماز شروع نہ کی ہو اور اس وقت سورج طلوع ہونے لگے تو نماز کو مؤخر کرے، عین طلوع کے وقت نماز شروع کرنا سب ائمہ کے نزدیک منع ہے، چناں چہ جب اشراق کا وقت ہوجائے تب فجر کی نماز قضا پڑھے۔

باقی حضرت ابو بکرؓ کا فجر کی نماز اتنی لمبی پڑھانا کہ سورج طلوع ہوجاتا تھا، ایسی کوئی روایت ہمارے علم میں نہیں ہے، اور بظاہر یہ ثابت بھی نہیں ہے، جو صاحب یہ روایت بیان کرتے ہیں، اس کا حوالہ ان سے معلوم کرلیجیے، حوالہ سامنے ہو تو اس بابت تحقیق کی جاسکتی ہے۔

مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ مع سوال و جواب نقل کیا جاتاہے:

سوال: کوئی شخص فجر کی نماز پڑھنا چاہتاہے جب کہ طلوعِ آفتاب میں صرف ایک منٹ باقی ہے، کیا وہ نماز پڑھنا شروع کردے یا طلوعِ آفتاب کے بعد مکروہ وقت کے ختم ہونے تک توقف کرے؟ نیز بخاری شریف میں صفحہ نمبر 28 پر امام بخاری نے مستقل اسی مسئلہ پر باب باندھا ہے، اور اس کے تحت یہ حدیث لائے ہیں: وعن أبي هریرة أن رسول الله صلى الله علیه وسلم قال: من أدرك من الصبح ركعةً قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك الصبح ۔۔۔ الخ  کا کیا جواب ہے؟ 

جواب: اگر یہ شخص عوام میں سے ہے تو اس کو طلوع کے وقت نماز پڑھنے سے اس وقت نہ روکا جائے، مبادا وہ نماز کو ترک کردے۔ دوم یہ کہ بعض ائمہ کے نزدیک اس وقت بھی نماز جائز ہے، اس لیے نماز کا پڑھنا ترک کرنے سے بہتر ہے، کما قال فی الدر المختار۔

البتہ اس کو عادت نہ بنایا جائے، ویسے حدیث میں طلوع کے وقت نماز پڑھنے کو مکروہ فرمایا گیا ہے، اور فقہائے حنفیہ نے مکروہِ تحریمی فرمایا ہے، آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، اس کے تعارض میں آنے والی احادیث آپ نے ذکر نہیں کی ہیں، جن میں تین اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے۔ اس لیے حنفیہ کے نزدیک نہی کی روایات کو راجح کہا گیا ہے۔ اور اس حدیث کے متعدد جوابات ہیں۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: ولی حسن ٹونکی

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 373):

(قوله: بخلاف الفجر إلخ) أي فإنه لا يؤدي فجر يومه وقت الطلوع؛ لأن وقت الفجر كله كامل فوجبت كاملة، فتبطل بطرو الطلوع الذي هو وقت فساد.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 370، 371):

وكرہ تحریمًا صلاة ... (مع شروق) إلا العوام، فلایمنعون من فعلها؛ لأنهم یتركونها، والأداء الجائز عند البعض أولى من الترك. 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 373):

أجیب بان التعارض لما وقع بینه وبین النھي عن الصلاة  في الأوقات الثلاثة رجعنا إلي القیاس كما هو حکم التعارض، فرجحنا حکم هذا الحدیث في صلاة العصر و حکم النھي في صلاة الفجر، كذا في شرح النقایة.

 فقط والله أعلم

 

 


فتوی نمبر : 144201201107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں