بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1441ھ- 08 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

فجر کے لیے زبردستی جگانا


سوال

کسی کو فجر کی نماز کےلیے زبرستی بیدار کرنا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ سوئے ہوئے شخص کو  نرمی اور حکمت کے ساتھ ہی اٹھانا چاہیے، تاہم جو  زیرِ تربیت ہو اگر وہ ایک مرتبہ نرمی سے بیدار نہ ہو تو اس کی تربیت اورتادیب کے لیے اصرار کے ساتھ اٹھایا جاسکتا ہے، اور جو ماتحت نہ ہو اُسے اصرار کے ساتھ بیدار کرنے میں اگر اس کے متنفر ہوجانے کا خوف ہو یا کوئی ایسا عمل یا جملہ کہنے کا خوف ہو جس سے اس کے ایمان کو خطرہ ہوجائے، تو اسے نہ اٹھایا جائے، بلکہ جب وہ اٹھ جائے تو اسے سمجھا دیا جائے۔ اور اگر مذکورہ کوئی خوف نہ ہو تو ایسے آدمی کو نرمی کے ساتھ  بیدار کردینا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 358):
"[فرع] لايجب انتباه النائم في أول الوقت، ويجب إذا ضاق الوقت، نقله البيري في شرح الأشباه عن البدائع من كتب الأصول، وقال: ولم نره في كتب الفروع فاغتنمه اهـ.
قلت: لكن فيه نظر لتصريحهم بأنه لايجب الأداء على النائم اتفاقًا فكيف يجب عليه الانتباه: روى مسلم في قصة التعريس عن أبي قتادة أنه صلى الله عليه وسلم قال: «ليس في النوم تفريط، إنما التفريط أن تؤخر صلاة حتى يدخل وقت الأخرى». وأصل النسخة التنبيه بدل الانتباه، وسنذكر في الأيمان أنه لو حلف أنه ما أخر صلاة عن وقتها وقد نام فقضاها، قيل: لايحنث، واستظهره الباقاني، لكن في البزازية: الصحيح أنه إن كان نام قبل دخول الوقت وانتبه بعده لايحنث، وإن كان نام بعد دخوله حنث اهـ فهذا يقتضي أنه بنومه قبل الوقت لايكون مؤخرًا وعليه فلايأثم وإذا لم يأثم لايجب انتباهه إذ لو وجب لكان مؤخرًا لها وآثمًا، بخلاف ما إذا نام بعد دخول الوقت، ويمكن حمل ما في البيري عليه".
 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے