بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

Facebook کے استعمال کا حکم


سوال

فیس بک کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی فیس بک پیج مدارس کے لیے دین کی دعوت کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

کوئی بھی ایسا کام جو آگے چل کر فتنہ وفساد کا ذریعہ بنے اس سے اجتناب کرناضروری ہے، خصوصاًجب کہ وہ فتنہ مذہبی رخ اختیارکرلےتو مزید احتیاط کی ضرورت ہے، نیزویڈیواورفوٹووغیرہ جس طرح خود بنانا اورکھینچنا حرام ہیں اسی طرح کسی اورکی بنائی ہوئی ویڈیو یا تصاویر شائع کرنا اور اس کو پھیلانا بھی شرعاً ممنوع ہے، مزید یہ کہ فیس بک پر ہر کس وناکس کو اظہارِخیال کی آزادی کا پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا ہے جس میں باطل عقائد و نظریات والے لوگ کم زور اہلِ ایمان کے ایمان پر ڈاکا  ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منظم کام بھی کررہے ہیں، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ایسے تالاب میں کود نے سے اجتناب کیا جائے جہاں خود کے ڈوبنےکاخدشہ ہو۔

ہاں اگرکوئی شخص اپنے ایمان اورعقائد میں اس قدر مضبوط ہو کہ وہ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائےخود دوسروں کے لیے  ہدایت و راہ نمائی کا ذریعہ بن سکتا ہو تو حدودِ شرع میں رہتے ہوئے اس پلیٹ فارم کواستعمال کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

سوشل میڈیا کے پروگراموں کا استعمال کرنا


فتوی نمبر : 144012200269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے