بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

فال نکلوانے اور نکالنے کا حکم


سوال

فال نکالنے والوں کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث میں کیا حکم ہے؟ نیز فال نکالنا کیا درست ہے کہ نہیں؟

جواب

علمِ غیب صرف اللہ تعالی ہی کے پاس ہے، فال نکلوانا عبث کام ہے، اور اس پر یقین رکھنا گناہ ہے،  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فال نکالنے والوں کے پاس جانے اور ان سے مستقبل کے بارے میں دریافت کرنے سے بھی منع فرمایا اور پوچھنے کی صورت میں اخروی نقصان سے آگاہ کیا ہے، جیساکہ ایک روایت میں ہے:

جس نے فال نکالنے والے سے سوال کیا تو اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہیں کی جاتی۔

ایک اور روایت میں ہے:

جو شخص فال نکالنے والے کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے ان تمام امور کا انکار (کفر) کردیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے۔

سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے:

وہ بری (آزاد) ہوگیا ان سب سے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں فال نکالنا یا نکلوانا جائز نہیں۔

لقول النبي صلى الله عليه وسلم: من أتى كاهناً أو عرافاً فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم. رواه أحمد. وفي حديث أحمد والترمذي عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أتى كاهناً فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد. ورواه أبو داود بلفظ: فقد برئ مما أنزل على محمد.

في المشکاة:

"عن صفية عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: « من أتى عرافاً فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعين ليلةً». رواه مسلم". (٢/ ٤١١)

شرح النووي على مسلم:

"والعراف هو الذي يدعي معرفة الشيء المسروق ومكان الضالة ونحوهما من الأمور، هكذا ذكره الخطابي في معالم السنن في كتاب البيوع، ثم ذكره في آخر الكتاب أبسط من هذا فقال: إن الكاهن هو الذي يدعي مطالعة علم الغيب ويخبر الناس عن الكوائن، قال: وكان في العرب كهنة يدعون أنهم يعرفون كثيراً من الأمور، فمنهم من يزعم أن له رفقاء من الجن وتابعة تلقي إليه الأخبار، ومنهم من كان يدعي أنه يستدرك الأمور بفهم أعطيه، وكان منهم من يسمى عرافاً وهو الذي يزعم أنه يعرف الأمور بمقدمات أسباب يستدل بها على مواقعها كالشيء يسرق، فيعرف المظنون به السرقة، وتتهم المرأة بالريبة، فيعرف من صاحبها ونحو ذلك من الأمور، ومنهم من كان يسمي المنجم كاهناً، قال: وحديث النهي عن إتيان الكهان يشتمل على النهي عن هؤلاء كلهم وعلى النهي عن تصديقهم والرجوع إلى قولهم، ومنهم من كان يدعو الطبيب كاهناً، وربما سموه عرافاً، فهذا غير داخل في النهي. هذا آخر كلام الخطابي. قال الإمام أبو الحسن الماوردي من أصحابنا في آخر كتابه الأحكام السلطانية: ويمنع المحتسب من يكتسب بالكهانة واللهو، ويؤدب عليه الآخذ والمعطي، والله أعلم.

(١٠ / ٢٣٢، ط: داراحیاء التراث العربی)

 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201201261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں