بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

یورپی ممالک میں سودی اکاؤنٹ کھولنے کا حکم


سوال

یورپی مملک میں سودی اکاؤنٹ کھولنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

سودی معاملہ چاہے مسلمان سے ہو یا کافر سے ہو، چاہے مسلمان ملک میں ہو یا کافروں کے ملک میں مسلمان کے لیے ہر صورت میں ناجائز اور حرام ہے؛ لہذا یورپی ممالک میں سودی اکاؤنٹ کھولنا حرام ہے۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

"وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يثبت بينهما الربا في دار الحرب".

 (کتاب البیوع، باب الربا، ج نمبر ۳ ص نمبر ۱۲۱،دار الفکر)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم في كل مكيل وموزون".

(کتاب البیوع، باب الربا، ج نمبر ۳ ص نمبر ۱۱۷،دار الفکر)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم

(عن جابر قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا» ) ، أي: آخذه وإن لم يأكل، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع".

(کتاب البیوع، باب الربا، ج نمبر ۵ ص نمبر ۱۹۱۵،دار الفکر)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144112201346

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں