بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایتھانول ملے ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال کا حکم


سوال

96.6%  ایتھانول کو مسجد کے فرش کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اور یہی مقدار ہینڈ سینیٹائزر میں موجود ہو اور آپ اس کو وضو کرنے کے بعد استعمال کریں تو کیا وضو کو دوبارہ کرنا پڑے گا؟

جواب

واضح رہے کہ ایتھانول ایک ایسا کیمیکل ہے جو وارنش اور دیگرعطریات وغیرہ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

اگر ہینڈ سینیٹائزر (Hand Sanitizer) میں ایتھانول ملا ہوا  ہو تو اس میں یہ تفصیل ہے  کہ  جب تک اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ اس ہینڈ سینیٹائزر کی تیاری میں حرام اور ناپاک اجزاء کا استعمال کیے گئے ہیں ، اس وقت تک بلاتحقیق اور بلادلیل شرعی اس کی ناپاکی کا حکم نہیں لگایا جاسکتا اور اس کے استعمال سے وضو پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

"تكملة فتح الملهم"  میں ہے:

 " بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة التي عمت بها البلوى اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية والعطور والمركبات الأخرى، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، وإن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ولا يحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخرى ما لم تبلغ حد الإسكار ؛ لأنها إنما تستعمل مركبة مع مواد أخرى، ولا يحكم بنجاستها أخذاً بقول أبي حنيفةرحمه الله تعالى. وإن معظم الكحول التي تستعمل اليوم في الأدوية والعطور وغيرها لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشر أو البترول وغيره، كما ذكرنا في باب بيع الخمر من كتاب البيوع، وحينئذٍ هناك فسحة في الأخذ بقول أبي حنيفة عند عموم البلوي. والله سبحانه أعلم". (3/506، کتاب الاشربہ، ط:دارالعلوم کراچی)

وفیه أیضاً:

" وإنما نبهت علی هذا لأن الکحول المسکرة الیوم صارت تستعمل في معظم الأدوية ولأغراض کیمیاوية أخری ولاتستغنی عنها کثیر من الصناعات الحدیثة، وقد عمت بها البلوی واشتدت إليها الحاجة، والحکم فيها علی قول أبي حنیفة سهل؛ لأنها إن لم تکن مصنوعةً من النئي من ماء العنب فلا یحرم بیعها عنده، والذي یظهر لي أن معظم هذه الکحول لاتصنع من العنب، بل تصنع من غیرها، وراجعت له دائرة  المعارف البریطانیة المطبوعة 1950م (1/544) فوجدت فیها جدولاً للمواد التي تصنع منها هذه الکحول،  فذکر في جملتها العسل، والدبس، والحب، والشعیر، والجودار،وعصیرأناناس (التفاح الصوبری)، والسلفات، والکبریتات، ولم یذکر فیه العنب والتمر، فالحاصل أن هذه الکحول لو لم تکن مصنوعةً من العنب والتمر فبیعها للأغراض الکیمیاویة جائز باتفاق بین أبي حنیفة وصاحبیه، وإن کانت مصنوعةً من التمر أو من المطبوخ من عصیر العنب فکذلک عند أبي حنیفة، خلافاً لصاحبیه، ولو کانت مصنوعةً من العنب النئي فبیعها حرام عندهم جمیعاً، والظاهر أن معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا تمر، فینبغي أن یجوز بیعها لأغراض مشروعة في قول علماء الحنفیة جمیعاً".(1/551، حکم الکحول المسکرة، ط: دارالعلوم کراچی)

فتاوی شامی میں ہے:

" الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ، وَأَنَّ فَرْضَ إضْرَارِهِ لِلْبَعْضِ لَا يَلْزَمُ مِنْهُ تَحْرِيمُهُ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ، فَإِنَّ الْعَسَلَ يَضُرُّ بِأَصْحَابِ الصَّفْرَاءِ الْغَالِبَةِ، وَرُبَّمَا أَمْرَضَهُمْ مَعَ أَنَّهُ شِفَاءٌ بِالنَّصِّ الْقَطْعِيِّ، وَلَيْسَ الِاحْتِيَاطُ فِي الِافْتِرَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِإِثْبَاتِ الْحُرْمَةِ أَوْ الْكَرَاهَةِ اللَّذَيْنِ لَا بُدَّ لَهُمَا مِنْ دَلِيلٍ، بَلْ فِي الْقَوْلِ بِالْإِبَاحَةِ الَّتِي هِيَ الْأَصْلُ". (6 / 459، کتاب الأشربة، ط: سعید) فقط واللہ اعلم

 


 

الکحل کی دو قسمیں ہیں:  (1) ایک وہ جو منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک ہے، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت ناجائز ہے۔ (2) دوسری  وہ جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً  جو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے۔

         عام طور پر پرفیوم وغیرہ میں جو الکحل استعمال ہوتی ہے وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ  دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا  کسی چیز  کے بارے میں جب تک دلیلِ شرعی سے ثابت  نہ ہوجائے کہ اس  میں حرام شرابوں سے حاصل شدہ الکحل ہے اس وقت تک اس کو ناجائز اور حرام نہیں کہہ سکتے، تاہم اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔


فتوی نمبر : 144109200130

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں