بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

استنجا کے لوٹے/ برتن سے وضو کرنے کا حکم


سوال

استنجے کے لوٹے سے وضو کرنا کیسا ہے،کوئی قباحت تو نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ وضو کے لیے پاک پانی کا ہونا شرط ہے، لہذا اگر استنجا کا لوٹا پاک ہے،اس پر ظاہری اعتبار سے کوئی ناپاکی نہیں ہے، تو اس سے استنجا کرنے کے بعد وضو کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ وضو کسی اور پاک برتن سے کیا جائے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"(الطهارة من الأحداث جائز بماء السماء والأودية والعيون والآبار والبحار) لقوله تعالى {وأنزلنا من السماء ماء طهورا} [الفرقان: 48] وقوله عليه الصلاة والسلام: «والماء طهور لاينجسه شيء إلا ما غير لونه أو طعمه أو ريحه» وقوله عليه الصلاة والسلام في البحر: «هو الطهور ماؤه والحل ميتته» ومطلق الاسم ينطلق على هذه المياه.

(قوله: لقوله تعالى: {وأنزلنا من السماء ماء طهورا} [الفرقان: 48] يستدل به على عموم الدعوى إن كانت كل المياه أصلها من السماء، وإنما سلكت ينابيع في الأرض كما قال تعالى: {ألم تر أن الله أنزل من السماء ماء فسلكه ينابيع في الأرض} [الزمر: 21] وعلى بعضها إن لم يكن كذلك."

(کتاب الطهارات، باب الماء الذي يجوز به الوضوء وما لا يجوز ، ج:1، ص:69 ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200711

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں