بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ لائف کے ملازم کا ہدیہ قبول کرنے کاحکم


سوال

 میں بچوں کو پڑھاتا ہو ں اور ان بچوں کے والد صاحب اسٹیٹ لائف کا کام کرتے ہیں ، اور اس کے علاوہ کوئی کام نہیں لیکن وہ کھانے کے لیے پھل وغیرہ دیتے ہیں اور کبھی کبھی کھانا بھی دیں دیتے کیا یہ کھانا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص سودی بینک میں براہ راست سودی لین دین کے معاملات کے شعبے میں کام کرتا ہے، اس ملازمت کے علاوہ اس کا کوئی اور حلال ذریعہ آمدن بھی نہیں ہے٬ تو ان کے ہاں کھانا پینا درست نہیں ہے، لیکن اگر اس کا کوئی اور جائز ذریعہ آمدن بھی ہو٬ اور وہ اپنی جائز کمائی سے مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلائے٬ تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب بچوں کے والد کی تمام کمائی اسٹیٹ لائف سے ہوتی ہے تو ان سے کسی قسم کاہدیہ یاکوئی کھانے پینے کی چیز قبول کرنا جائز نہیں ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع."

(كتاب الكراهية،الباب الثاني عشر في الهداياوالضيافات،ج:5،ص:342،ط:رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله ‌الحرام ‌ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك."

(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:5،ص:98،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406101420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں